تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خاشقجی قتل کیس کی سماعت میں عدلیہ کو مکمل خود مختاری حاصل ہوگی : سعودی وزیرِ عدل
تمام ضروری ضابطے مکمل ہونے کے بعد سعودی عدالتوں میں خاشقجی قتل کیس کا مقدمہ چلایا جائے گا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 9 صفر 1440هـ - 20 اکتوبر 2018م KSA 22:56 - GMT 19:56
خاشقجی قتل کیس کی سماعت میں عدلیہ کو مکمل خود مختاری حاصل ہوگی : سعودی وزیرِ عدل
تمام ضروری ضابطے مکمل ہونے کے بعد سعودی عدالتوں میں خاشقجی قتل کیس کا مقدمہ چلایا جائے گا
سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا واقعہ مملکت کے خود مختار علاقے (استنبول میں سعودی قونصل خانے) میں رونما ہوا ہے ۔تمام قواعد وضوابط کی تکمیل کے بعد اس کا مقدمہ سعودی عدالتوں میں چلایا جائے گا اور عدالتوں کو اس کی سماعت میں مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل ہوگی۔

یہ بات سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے ایک بیان میں کہی ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ عدالتوں کو جمال خاشقجی کے کیس کی سماعت میں مکمل آزادی ہوگی ۔تمام ضروری ضابطوں کی تکمیل کے بعد اس کی سماعت کا آغاز کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جمال خاشقجی کی الم ناک موت کے افسوس ناک واقعے کے بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے جاری کردہ فرامین اور فیصلے ریاست کی حکمت ِ عملی کا تسلسل ہیں۔ انھوں نے کہا :’’ سعود ی شہری کی حیثیت سے ہمیں فخر ہے اور اپنے عوام پر بھی فخر ہے جنھوں نے مادر ِوطن اور اس کے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے ‘‘۔

انھوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں عدلیہ کا ادارہ اسلامی قانون کے اصولوں اور عدل کی اقدار کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور مملکت سعودی عرب بھی ان ہی اصولوں ، اقدار اور شریعت کے تقاضوں کے نفاذ کو ملحوظ رکھ کر قائم کی گئی تھی۔

سعودی وزیرِ عدل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان عدلیہ کے ادارے کے کسی بھی ایسے فرد کے مقابلے میں حامی ہیں جو اس ملک اور اس کے شہریوں کے حقوق کو پامال کرنے کے درپے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب انصا ف کے معاملے میں پُرعزم ہے اور اس کو میڈیا کے ذرائع سے جارحانہ کردار کا مظاہرہ کرنے والوں کے ذریعے عدم استحکام کا شکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایسے لوگ پیشہ واریت کے حامل ہیں اور نہ ان کی کوئی ساکھ ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے اب تک اٹھارہ مشتبہ سعودی شہروں کو خاشقجی قتل کیس میں ملوث ہونے کےا لزام میں حراست میں لیا ہے ۔ان پر خاشقجی کی موت کو چھپانے کا الزام ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب خاشقجی قتل کیس کے سلسلے میں سچائی کو منظرعام پر لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہا ہے اور اس واقعے میں ملوّث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند