تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کےقیام میں رواداری اور اعتدال کی اقدار پنہاں ہیں : شاہ سلمان بن عبدالعزیز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 17 ربیع الثانی 1441هـ - 15 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 22 رمضان 1440هـ - 27 مئی 2019م KSA 19:46 - GMT 16:46
سعودی عرب کےقیام میں رواداری اور اعتدال کی اقدار پنہاں ہیں : شاہ سلمان بن عبدالعزیز
سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ مملکت کے قیام میں رواداری اور اعتدال کی اقدار پنہاں ہیں ۔اس نے معتدل طریق کار کو اختیار کیا ہے جس سے اس کا تحفظ ہوا ہے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر نسل پرستی اور منافرت پر مبنی بیانیے کی بیخ کنی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انھوں نے یہ باتیں مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام ’ معتدل اسلام ‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں پڑھی گئی تقریر میں کہی ہیں۔ کانفرنس میں ان کی یہ تقریر گورنر مکہ شہزادہ خالد بن فیصل نے پڑھ کر سنائی ہے۔

شاہ سلمان نے کہا کہ ’’سعودی عرب انتہا پسندی ، تشدد اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے اور وہ سوچ ، نظریے اور عزم کے ساتھ ان کے استیصال کے لیے کوشاں ہے۔ مملکت تمام انسانی معاشروں میں انصاف کی اقدار کی پاسداری پر زور دیتی ہے اور وہ ان کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کی خواہاں ہے‘‘۔

رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ میں ’’اعتدال اور رواداری‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے۔ اس کانفرنس میں اسلامی دنیا کی نمایندہ شخصیات ، وزراء ، ماہرین ، علماء اور اعلیٰ حکومتی عہدے دار شریک ہیں۔

مکہ مکرمہ ہی میں سعودی عرب کی میزبانی میں 31 مئی جمعہ کو اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کا چودھواں سربراہ اجلاس منعقد ہوگا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس #مکہ_سمٹ کی صدارت کریں گے۔اس کاعنوان ’’ #مکہ_سمٹ :مستقبل کے لیے اکٹھ ‘‘ ہے۔اس کا مقصد اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے پیش نظر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی اس سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ اس موقع پر میزبان شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے علاوہ کانفرنس میں شریک دوسرے لیڈروں سے ملاقاتیں کریں گے اور ان سے مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت کریں گے۔

یہ خیال کیا جارہا ہے کہ #مکہ_سمٹ  میں یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کے سعودی عرب کے شہروں اور تیل کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے حالیہ حملوں ،امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ،شام کی صورت حال ، لیبیا میں خانہ جنگی اور تنازع فلسطین کے حل کے لیے امریکا کے مجوزہ امن منصوبے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اپنے اس منصوبے کو خفیہ رکھا ہوا ہے لیکن اس کی صدائے بازگشت گذشتہ کئی ماہ سے سنی جارہی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند