تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مکہ مکرمہ میں چودھویں تاریخی اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 27 رمضان 1440هـ - 1 جون 2019م KSA 00:44 - GMT 21:44
مکہ مکرمہ میں چودھویں تاریخی اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد
العربیہ ڈاٹ نیٹ

عالم اسلام کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کا چودھواں سربراہ اجلاس جاری ہے۔سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس #مکہ_سمٹ کی صدارت کررہے ہیں اور اس میں ستاون مسلم اکثریتی ممالک کے سربراہان ریاست وحکومت ، وزرائے خارجہ اور دوسرے اعلیٰ عہدے دار شریک ہیں۔اس کا عنوان،’’مکہ سمٹ: مستقبل کے لیے اکٹھ ‘‘ ہے۔

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مکہ ہی میں  شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد ہوئے تھے اور گذشتہ روز ساحلی شہر جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا۔اس میں سعودی وزیر خارجہ ابراہیم بن عبدالعزیز العساف نے اظہار خیال کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک چار تیل بردار بحری جہازوں پر تخریبی حملے کی مذمت کی تھی اور اس کے مضمرات سے خبردار کیا تھا۔

عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاسوں میں ایران پر زور دیا گیا تھا کہ وہ خطے میں اپنے کردار پر نظرثانی کرے اور دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے باز آجائے۔ ان میں بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے عرب اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

خادم الحرمین الشریفیں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خلیج عرب کے ہنگامی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایران جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی اپنی صلاحیتوں کو ترقی دے رہا ہے ۔اس سے علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم ( سابق نام اسلامی کانفرنس تنظیم ، او آئی سی) کے قیام کی نصف صدی پوری ہونے پر مکہ مکرمہ میں یہ چودھواں تاریخی اسلامی سربراہ اجلاس منعقد ہورہا ہے۔1969ء سے 2016ء تک تیرہ اسلامی سربراہ کانفرنسیں منعقد ہوئی تھیں اور سات ہنگامی سربراہ اجلاس اسلامی دنیا کے مختلف ممالک مراکش ، سعودی عرب ، انڈونیشیا ، کویت ، مصر ، پاکستان اور ترکی کے دارالحکومتوں میں طلب کیے گئے تھے۔

ان کانفرنسوں میں ہمیشہ فلسطینی نصب العین ( کاز) ، مسئلہ کشمیر ،صومالیہ ، جیبوتی اور دوسرے غریب مسلم ممالک اور غیر مسلم ممالک میں مقیم مقہور مسلم اقلیتوں کی حمایت کی جاتی ہے اور ان کی سیاسی ، سفارتی اور مالی امداد کے لیے عملی اقدامات بھی تجویز کیے جاتے ہیں اور ان کے حق میں قراردادیں منظور کی جاتی ہیں۔اس سربراہ اجلاس کے ایجنڈے میں عالم اسلام کو درپیش مختلف چیلنجز ،اسلامو فوبیا،سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حالیہ تخریبی حملے ، سعودی شہروں کی جانب حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کے تناظر میں یمن کی صورت حال ، لیبیا میں خانہ جنگی اور شام میں جاری بحران ایسے امور سرفہرست ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند