تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سوڈان دھرنے میں 100 افراد قتل نہیں ہوئے: وزارت صحت
’’نعشوں کو دریائے نیل میں بہانے سے متعلق خبریں بھی درست نہیں‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 2 شوال 1440هـ - 6 جون 2019م KSA 06:45 - GMT 03:45
سوڈان دھرنے میں 100 افراد قتل نہیں ہوئے: وزارت صحت
’’نعشوں کو دریائے نیل میں بہانے سے متعلق خبریں بھی درست نہیں‘‘
سوڈان کے سابق صدر صادق المہدی نماز عید الفطر کی امامت کرا رہے ہیں
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سوڈانی وزارت صحت نے خرطوم فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر دھرنے کے خلاف پیر کے روز ہونے والی فوجی کارروائی میں ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

نیز وزارت نے بدھ کی شام کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی نعشوں کو دریائے نیل میں بہانے سے متعلق خبروں کی بھی تردید کی ہے۔

ادھر سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے وزارت صحت کے سیکرٹری کے بیان سے متعلق کہا ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات میں ہلاک افراد کی تعداد 46 سے زیادہ نہیں۔ سیکرٹری صحت ڈاکٹر سلیمان عبدالجبار نے کہا پیر کے روز ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک سو افراد کی ہلاکت والی خبر درست نہیں۔

اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سوڈانی ڈاکٹروں کی انجمن نے بدھ کے روز دعوی کیا تھا کہ خرطوم دھرنا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے جنرل ہیڈکوارٹرز کے باہر کئے جانے والی فوجی ایکشن میں ہلاکتوں کی تعداد 60 بیان کی تھی۔

سوڈان میں آزادی اور تبدیلی بلاک نے عبوری فوجی کونسل پر الزام عاید تھا کہ انہوں نے دھرنے کو منتشر کرنے کے لئے براہ راست فائرنگ کی، تاہم کونسل اس امر کی تردید کرتی ہے۔ فوجی کونسل کا کہنا ہے کہ دھرنا منتشر کرنے کے لئے انہوں نے فائرنگ نہیں کی بلکہ دھرنے کے مقام سے فرار ہونے والوں کا پیچھا کیا تھا۔

تبدیلی بلاک نے ایک بیان میں دھرنا منشتر کرنے کی کارروائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور اس پراسیکیوٹر جنرل سے واقعہ کی تحقیقات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند