تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اقوام متحدہ کی’خاشقجی رپورٹ‘ تضادات کا مجموعہ، اپنی ہی ساکھ مجروح کردی:عادل الجبیر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 16 ربیع الثانی 1441هـ - 14 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شوال 1440هـ - 19 جون 2019م KSA 19:25 - GMT 16:25
اقوام متحدہ کی’خاشقجی رپورٹ‘ تضادات کا مجموعہ، اپنی ہی ساکھ مجروح کردی:عادل الجبیر
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق رپورٹ کو تضادات اور بے بنیاد الزامات کا مجموعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خود عالمی ادارے کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا:’’ اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمایندہ کی رپورٹ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے اور انھوں نے اپنی غیر پابند رپورٹ میں پہلے سے میڈیا میں شائع اور نشرشدہ مواد ہی کا اعادہ کیا ہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں جمال خاشقجی کیس کی تحقیقات اور ان کے قتل میں ملوّث مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے علاوہ ترکی اور سعودی عرب کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمایندوں نے ان کے خلاف عدالت میں مقدمے کی سماعت ملاحظہ کی ہے۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ’’ سعودی عدلیہ خاشقجی کیس میں مکمل بااختیا ر مجاز اتھارٹی ہے اور وہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کررہی ہے‘‘۔

اقوام متحدہ نے بدھ کو 101 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے سے حاصل کردہ ریکارڈنگز پر انحصار کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلما ن نے اتوار کو لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط سے انٹرویو میں خاشقجی قتل کیس کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ اس طرح کے واقعات ہماری ثقافت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے اور یہ ہمارے اصول واقدار کے منافی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ سعودی حکومت نے اس قتل کے سلسلے میں ضروری اقدامات کیے ہیں،اس کے ذمے داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا ہے اور انضباطی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مکروہ جرائم کو رونما ہونےسے روکا جاسکے۔

سعودی ولی عہد نے کہا:’’ بدقسمتی سے اس قتل کے مشتبہ ملزمان سرکاری ملازمین تھے۔اب ہم مکمل انصاف کے لیے کوشاں ہیں۔جو کوئی فریق بھی اس کیس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے،اس کو اس کوشش سے باز آجانا چاہیے اور اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ انھیں سعودی عرب میں عدالت کو پیش کرے تاکہ انصاف کے حصول میں مدد مل سکے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند