تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈرون طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں ایرانی میزائل کا نشانہ بنا : امریکی ذمے دار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م KSA 11:31 - GMT 08:31
ڈرون طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں ایرانی میزائل کا نشانہ بنا : امریکی ذمے دار
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایک امریکی ذمے دار نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ امریکا کا ایک عسکری ڈرون طیارہ آبنائے ہرمز کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایرانی میزائل کا نشانہ بن کر تباہ ہو گیا۔

رائٹرز کے مطابق مذکورہ ذمے دار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گر کر تباہ ہونے والا MQ-4C Triton ڈرون طیارہ امریکی بحریہ کا تھا۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران کے زیر انتظام خبر رساں ایجنسی سپاہ نیوز نے بتایا تھا کہ پاسداران نے ہرمزجان صوبے میں امریکا کا ایک ڈرون "جاسوس" طیارہ مار گرایا ہے۔ ایجنسی کے مطابق طیارے کو اُس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ جنوب میں کوہ مبارک کے علاقے کے نزدیک ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے تعلقات عامہ کے شعبے نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ پاسداران کے زیر انتظام فضائی دفاعی فورسز جمعرات کی صبح ہرمزجان صوبے میں ایک امریکی جاسوس ڈرون طیارہ مار گرانے میں کامیاب رہیں۔

بعد ازاں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے کہا کہ ڈرون طیارہ مار گرانا امریکا کے لیے ایک "واضح پیغام" ہے۔ سلامی کے مطابق تہران سرخ لکیر سے تجاوز کرنے والی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ پاسداران کے کمانڈر نے واضح کیا کہ "ہم جنگ نہیں چاہتے مگر اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں"۔

دوسری جانب امریکی فوج نے جمعرات کی صبح ایرانی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایرانی فضائی حدود میں کوئی امریکی طیارہ داخل نہیں ہوا"۔

اس سے قبل NBC نیوز کے مطابق امریکی مرکزی کمان کے ترجمان نے بھی علاقے میں کسی ڈرون کی پرواز کی نفی کی تھی۔

امریکی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک امریکی جاسوس طیارہ مار گرانے کی کوشش کی گئی۔ امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ یمن میں ایران کی حلیف حوثی ملیشیا نے چھ جون کو ایک امریکی ڈرون مار گرایا تھا۔

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ برس مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے اعلان کے بعد سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران بالخصوص امریکا کی جانب سے مشرق وسطی میں اضافی عسکری کمک بھیجنے کے اعلان کے بعد تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پینٹاگان نے جمعرات کے روز اعلان میں کہا تھا کہ 1000 امریکی فوجیوں کے بھیجنے کی کارروائی میں پیٹریاٹ میزائلوں کا بریگیڈ، ڈرون اور جاسوس طیارے شامل ہیں۔

تاہم فریقین (امریکا اور ایران) ایک سے زیادہ مرتبہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند