تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جبل طارق : ایرانی تیل بردار جہاز کا کپتان اور معاون پولیس کی حراست میں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 9 ذیعقدہ 1440هـ - 12 جولائی 2019م KSA 10:25 - GMT 07:25
جبل طارق : ایرانی تیل بردار جہاز کا کپتان اور معاون پولیس کی حراست میں
جبل طارق – ایجنسیاں

جبل طارق کی پولیس نے جمعرات کے روز ایرانی تیل بردار بحری جہاز "گریس 1" کے کپتان اور اس کے ایک معاون کو حراست میں لے لیا۔ مذکورہ جہاز کو برطانیہ کے زیر انتظام علاقے کے حکام نے جمعرات کے روز تحویل میں لے لیا تھا۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق جہاز کا کپتان اور اس کا معاون دونوں بھارتی ہیں۔ دونوں افراد کو دمشق پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

جبل طارق کے حکام کے مطابق یہ جہاز تیل کی کھیپ لے کر شام جا رہا تھا۔ تاہم تہران نے اس امر کی تردید کی ہے۔

برٹش رائل نیوی کے میرینز نے جمعرات کے روز جبل طارق کے ساحل کے مقابل موجود ایرانی جہاز "گریس 1" پر دھاوا بول کر اسے قبضے میں لے لیا۔ جہاز پر الزام ہے کہ اس نے شام کو خام تیل منتقل کرنے پر عائد یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

جبل طارق کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری جہاز گریس 1 کی جامع جانچ اور معائنے کے نتائج حاصل ہونے کے بعد اب یہ تصدیق کی جا سکتی ہے کہ جمعرات کی صبح حراست میں لیا جانے والا جہاز اپنی انتہائی گنجائش تک خام تیل سے بھرا ہوا ہے۔

ادھر ہسپانیہ نے گذشتہ ہفتے بتایا کہ جہاز کو تحویل میں لینے کا اقدام امریکی درخواست پر کیا گیا جو اس نے برطانیہ کو پیش کی تھی ... اور ایسا لگ رہا ہے کہ کارروائی پر عمل درامد ہسپانیہ کے پانی میں ہوا۔

جبل طارق کی حکومت کے بیان کے مطابق تحویل میں لیے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کے حوالے سے شبہہ تھا کہ وہ خام تیل لے کر شام میں بانیاس کمپنی کی آئل ریفائنری کی جانب گامزن تھا۔ بانیاس کمپنی یورپی یونین کی پابندیوں کے ضمن میں آنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی پابندیاں واضح طور پر صرف شام کو طیاروں کا ایندھن برآمد کرنے کو ممنوع قرار دیتی ہیں۔ لہذا پابندیوں کے تحت آنے والے کسی بھی خریدار یا حتمی استعمال کنندہ کو کی جانے والی فروخت ممکنہ طور پر قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی ہو گی۔

اگرچہ ایرانی ذمے داران کا کہنا ہے کہ یہ تیل بردار جہاز ان کا ہے تاہم جبل طارق کے حکام نے تیل کے ذریعے کے بارے میں انکشاف نہیں کیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند