تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک صدر نے شامی پناہ گزینوں پرعرصہ حیات کیسے تنگ کیا؟ جانیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 24 ذوالحجہ 1440هـ - 26 اگست 2019م
آخری اشاعت: اتوار 11 ذیعقدہ 1440هـ - 14 جولائی 2019م KSA 00:10 - GMT 21:10
ترک صدر نے شامی پناہ گزینوں پرعرصہ حیات کیسے تنگ کیا؟ جانیے
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن یہ دعویٰ‌ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ انہوں‌ نے شامی پناہ گزینوں کی مدد ونصرت میں انصار ومہاجرین کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی روایت زندہ کی ہے۔ مگر تُرک صدر کے شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے اقدامات نے ان کے بھائی چارے کے دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ ترک صدر نے شامی پناہ گزینوں کو اسپتالوں میں علاج کے لیے ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ واپس لینے کے ساتھ  انھیں بڑی تعداد میں ملک سے بے دخل کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔

ترک اخبار 'حریت' کے مطابق صدر نے حکمران جماعت 'آق' کے ایک اجلاس کی صدارت کی اور شامی پناہ گزینوں‌ کے حوالے سے نئے لائحہ عمل پرغور کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے بعض دوسرے رہ نماؤں‌ نے بھی شامی پناہ گزینوں‌ کے معاملے میں منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پارٹی رہ نماؤں کی تنقید کے بعد صدر ایردوآن نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کے لیے ترکی کےدروازے کھولنا ضروری تھا مگر ہم اس کے نتائج سے بے پروا نہیں تھے۔ ہم نے شامی بھائیوں کی مدد کی۔ اگرہم ایسے حالات سے دوچار ہوتے تو وہ اسی طرح اپنے دروازے ہمارے لیے کھول دیتے'۔

انھوں‌ نے کہا کہ اب شام میں‌ حالات بدل رہے ہیں۔ ہم شامی پناہ گزینوں کو واپسی کی ترغیب دیں گے۔ جو جرائم میں ملوث پایا گیا اور غیر قانونی طریقے سے ترکی میں قیام کی کوشش کی تواسے بے دخل کر دیا جائے گا۔ اسی طرح علاج کے لیے ترکی کے اسپتالوں میں دی گئی مراعات اور ٹیکسوں میں‌ چھوٹ واپس لے لی جائے گی۔

خیال رہے کہ ترک صدر کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ترک وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔ ترکی میں رجسٹرڈ شامی پناہ گزینوں کی تعداد 36 لاکھ 50 ہزار سے زاید ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند