تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران اور حزب اللہ کی دہشت گردی کے انسداد کے لیے امریکا اور ارجنٹائن کے بیچ تعاون
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 ذیعقدہ 1440هـ - 15 جولائی 2019م KSA 11:00 - GMT 08:00
ایران اور حزب اللہ کی دہشت گردی کے انسداد کے لیے امریکا اور ارجنٹائن کے بیچ تعاون
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا کی جانب سے ارجنٹائن کی اُن نئی مساعی کو سپورٹ کیا جا رہا ہے جو بیونس آئرس ایران اور حزب اللہ کے ایجنٹوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے سلسلے میں کر رہا ہے۔ وائس آف امریکا فارسی سروس کی ویب سائٹ کے مطابق ان ایجنٹوں پر 1994 میں بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی کے ایک مرکز پر خونی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

اس حملے کے 25 سال پورے ہونے کے موقع پر واشنگٹن میں منعقد ایک سیمینار میں امریکا میں انسداد دہشت گردی کی تنظیم کے رابطہ کار ناتھن سیلز نے امریکا میں ارجنٹائن کے سفیر فرنانڈو اوریز دی روآ کے ایرانی حکومت سے مطالبے کی تائید کی۔ فرنانڈو نے ایرانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ارجنٹائن کے حکام کے ساتھ تعاون کرے جو متاثرہ افراد کو انصاف دلانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

یہ دہشت گرد حملہ براعظم جنوبی امریکا میں سب سے زیادہ خونی کارروائی شمار ہوتی ہے۔ تیس سال قبل 18 جولائی 1994 کو ایک خود کش حملہ آور نے گولہ بارود سے بھری گاڑی بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی کے مرکز Asociación Mutual Israelita Argentina (AMIA) سے ٹکرا دی۔ حملے میں 85 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

ارجنٹائن میں استغاثہ کے نمائندوں نے طویل عرصے سے اس خیال کا اظہار کر رکھا ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے ایرانی حکومت میں اپنے سرپرستوں کے حکم پر یہ کارروائی کی۔ تاہم کسی بھی مبینہ ملزم کو عدالتی کارروائی کے واسطے حراست میں نہیں لیا گی۔ تہران اس واقعے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔

ناتھن سیلز نے سیمینار کے دوران کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ارجنٹائن اور جنوبی امریکا کے دیگر ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہے تا کہ ایران اور اس کی ایجنٹ حزب اللہ تنظیم کا احتساب کیا جا سکے۔ سیلز کے مطابق ایران اور حزب اللہ کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے واسطے امریکا اپنے شراکت داروں کے ساتھ سرگرمی سے مصروف عمل ہے۔ اس سلسلے میں اہم متعلقہ تنظیموں کے علاوہ جنوبی امریکا کے تمام حصوں میں انسداد دہشت گردی کے میدان میں مضبوط خصوصی تعاون سامنے آ رہا ہے۔ اس میں ارجنٹائن، پاناما، پیراگوائے، برازیل، پیرو اور کولمبیا جیسے ممالک شامل ہیں۔

سیلز نے واضح کیا کہ وہ آئندہ ہفتے بیونس آئرس کے دورے میں اس تعاون کو وسعت دینے کا ہدف رکھتے ہیں۔ سیلز امریکی وفد میں رکن کی حیثیت سے شامل ہوں گے جو جنوبی امریکا میں انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں وزارتی سطح پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ سیلز کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک دہشت گردی کے انسداد کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں اور سیکورٹی کمزوریوں کو زیر بحث لائیں گے۔

ویلسن سینٹر کے زیر اہتمام سیمینار میں امریکا میں ارجنٹائن کے سفیر فرنانڈو اوریز دی روآ نے کہا کہ ارجنٹائن کی حکومت 1994 میں یہودی کمیونٹی مرکز پر دھماکے میں ملوث تمام افراد سے پوچھ گچھ اور ان کو قانونی طور پر قصور وار ٹھہرانے کا عزم رکھتی ہے۔

فرنانڈو کا کہنا تھا کہ ارجنٹائن کا یہ مطالبہ برقرار ہے کہ ایران ،،، ارجنٹائن میں عدالتی حکام کے ساتھ تعاون کرے۔ ہم ارجنٹائن کے دوست ممالک پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ اس کوشش میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں اور کسی بھی ملزم کو جس کے خلاف گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹ جاری ہو چکے ہیں کسی بھی قسم کی سفارتی مامونیت فراہم کرنے سے گریز کریں۔

کچھ عرصہ قبل امریکی چینل CNN (ہسپانوی زبان کی سروس) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ارجنٹائن کے صدر موریسو ماکرے نے باور کرایا تھا کہ وہ حزب اللہ کے مسلح عناصر کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لے اقدامات کر رہے ہیں۔ امریکا پہلے ہی پوری حزب اللہ تنظیم کو دہشت گرد جماعت قرار دے چکا ہے۔

بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی پر حملے کے کیس میں قانونی ٹیم کی قیادت کرنے والے ارجنٹائن کے وکیل ایڈوکیٹ میگیل برونفمین نے اپنی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف مذکورہ اقدامات کے آغاز کا خیر مقدم کیا ہے۔ وائس آف امریکا (فارسی سروس) سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دیگر ممالک بالخصوص پیراگوائے اور برازیل بھی ارجنٹائن کے اقدام کی پیروی کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند