تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کی جوہری سمجھوتے سے پہلے والی پوزیشن پرواپس جانے کی دھمکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 27 جمادی الاول 1441هـ - 23 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م KSA 06:58 - GMT 03:58
ایران کی جوہری سمجھوتے سے پہلے والی پوزیشن پرواپس جانے کی دھمکی
بہروز کمالوندی
تہران ۔ ایجنسیاں

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ ان کا ملک جولائی 2015ء کو طے پانے والے جوہری سمجھوتے سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جا سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق جوہری توانائی ایجنسی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ایک بیان میں کہا کہ 'اگر یورپی اور امریکی اپنے وعدے پورے نہیں‌ کرتے تو ہم بھی جوہری سمجھوتے کی تمام شرائط پرعمل درآمد کے پابند نہیں۔ ہم چار سال قبل والی پوزیشن پر جا سکتے ہیں'۔

کمالوندی کا کہنا ہےکہ جوہری سمجھوتے کی شرائط پرعمل درآمد جزوی طور پر معطل کرنا کوئی ضد کا دشمنی نہیں بلکہ فریق ثانی کو اپنے وعدوں کا پابند بنانے کا موقع دینا اور اسے بیدار کرنا ہے۔

خیال رہے کہ 2015ء کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے کا تہران کو فائدہ ہوا۔ ایران پرعاید کی گئی پابندیاں بتدریج اٹھا دی گئیں مگر مئی 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے سےعلاحدگی کا اعلان کرکے اسلامی جمہوریہ ایران پر سابقہ پابندیاں بحال کرنے کا اعلان کیا۔

حال ہی میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یورینیم افزودگی کی مقدار بڑھا دی ہے۔ اس وقت ایران کےساتھ طے پایا سمجھوتہ یورپی ملکوں کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یورپی یونین اس معاہدے کوبچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوموار کو ایران کے ساتھ جاری بحران کے حوالے سے برسلز میں خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں یورپی ملکوں کے وزراء خارجہ نے شرکت کی۔

اتوار کے روز جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں امریکا اور ایران پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا تھا

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند