تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خوشخبری! سعودی عرب میں اب نان سٹاپ کاروباری سرگرمیاں ہوں گی
بلا توقف کاروباری سرگرمیوں سے سعودی معیشت پر مثبت اثرات پڑیں گے: ماہرین اقتصادیات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م KSA 10:52 - GMT 07:52
خوشخبری! سعودی عرب میں اب نان سٹاپ کاروباری سرگرمیاں ہوں گی
بلا توقف کاروباری سرگرمیوں سے سعودی معیشت پر مثبت اثرات پڑیں گے: ماہرین اقتصادیات
چوبیس گھنٹے کاروبار جاری رکھنے کا فیصلہ ملکی معیشت پر مثبت اثرات ڈالے گا
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب میں تجارتی سرگرمیاں چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد مملکت میں کاروبار بلا توقف کیا جا سکے گا۔

اس امر کا فیصلہ گذشتہ روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔

وزیر بلدیات اور دیہی امور ڈاکٹر ماجد القصبی نے فیصلے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر ماجد القصبی نے کہا کہ فیصلہ شہریوں کے اطمینان اور مملکت میں معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔ اس سے کاروباری شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انھوں نے کہا 24 گھنٹے کاروباری سرگرمیوں کی اجازت سے ملکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا جس سے اشیاء اور سروسز کی طلب میں اضافہ ہو گا جو صارفین کو زیادہ سے زیادہ خریداری کے مواقع دے گا جس سے سرمایہ بڑھے گا۔ اس فیصلے سے سیاحت، تفریح، ٹرانسپورٹ اور مواصلات جیسے شعبوں میں تحرک پیدا ہو گا اور یہ سہولت ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کا باعث ہو گی۔

یہ فیصلہ مملکت کی جانب سے نجی شعبہ اور کمپنیوں کو بہترین مناسب ماحول فراہم کی کوششوں کا عکاس ہے جس میں وہ کام کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے مملکت معاشی اصلاحات کے عمل کو ضروری ترامیم اور قانون سازی کے ذریعے سازگار بنایا جائے گا۔

انڈر سیکرٹری وزارت بلدیہ، دیہی امور برائے منصوبہ بندی وپروگرام انجینیر خالد الدغيثر نے ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رات بارہ کے بجے کے بعد کاروباری سرگرمیوں اور دکانیں کھولنے سے متعلق شفاف اور محدود قواعد وضوابط متعلقہ وزارت تشکیل دے گی۔

انہوں نے کہا کہ چوبیس گھنٹے کاروبار کی اجازت دو طرح سے دی جائے گی۔ کچھ کاروبار ایسے ہوں گے جنہیں چوبیس گھنٹے کرنے کے خواہش مند کاروباری حضرات طے شدہ فیس ادا کریں گے جبکہ کچھ کاروباری سرگرمیاں، جن کا تعین خود حکومت کرے گی، کو بلا کسی اضافی ادائیگی چوبیس گھنٹے کاروبار کی اجازت ہو گی۔ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں وزارت بلدیہ، دیہی امور برائے منصوبہ بندی وپروگرام کرے گی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اہم معاشی پہلو ہیں جن میں سب سے نمایاں معاشی سرگرمی اور ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ نیز سروسز اور اشیائے صرف کی چوبیس گھنٹے فروخت کو یقینی بنانا بھی اس فیصلے کا اہم جزو ہے جس سے معاشی سرگرمی تیز ہو گی اور کاروباری مسابقت کا ماحول پیدا ہو گا، سرمایہ کاری کے متنوع مواقع پیدا ہوں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند