تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مکہ آنے والےعازمینِ حج کے لیے دس لاکھ سِم کارڈز اور مفت انٹرنیٹ کا تحفہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 22:27 - GMT 19:27
مکہ آنے والےعازمینِ حج کے لیے دس لاکھ سِم کارڈز اور مفت انٹرنیٹ کا تحفہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کی روشنی میں اس مرتبہ جدہ کے شاہ عبدالعزیزبین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے عازمین حج میں سم کارڈز تقسیم کیے جارہے ہیں اور انھیں انٹرنیٹ کی مفت سہولت مہیا کی جارہی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق امسال حجاج کرام کی خدمت کے پروگرام کے تحت ان میں دس لاکھ سمیں تقسیم کی جارہی ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے آبائی ممالک میں اپنے پیاروں سے رابطے میں رہیں اور انھیں اپنے روحانی تجربات اور حجاز مقدس میں اپنی مصروفیات سے آگاہ کرسکیں۔

حج سیزن کے دوران میں فیلڈ ٹیمیں پورے چوبیس گھنٹے کام کریں گی اور وہ دنیا بھر سے آنے والے عازمین میں موبائل فون کی سمیں تقسیم کریں گی۔

پاکستان اور دوسرے ممالک سے مکہ مکرمہ سے پہلے مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے والے عازمینِ حج کو سعودی حکومت کے اس پروگرام کے تحت تو سمیں مہیا نہیں کی جارہی ہیں۔ البتہ وہ سعودی موبائل فون کمپنیوں کے ہوٹلوں کے باہر جگہ جگہ بنے بوتھ سے یہ سمیں مفت حاصل کرسکتے ہیں۔ان کی ٹیمیں ہوٹلوں کے چکر بھی لگاتی رہتی ہیں اور وہ معمول کی تصدیق کے بعد حجاج کرام کو سم کارڈ جاری کردیتی ہیں۔

چار سعودی موبائل فون کمپنیوں موبائلی ، زین ، لیبارا اور ایس ٹی سی کے نوجوان کارندے الحرم النبوی الشریف کی جانے والی شاہراہوں پر جگہ جگہ موجود نظر آتے ہیں اور وہ پاسپورٹ نمبر کی بنیاد پرعازمینِ حج کو انگلیوں کے نشان لے کر سمیں جاری کردیتے ہیں۔

یہ چاروں کمپنیاں حاجیوں کو مختلف پیکجز کی پیش کش کرتی ہیں۔مثال کے طور پر لیبارا ایمان بنڈل ایک ، دو اور تین کے نام سے سعودی عرب ہی میں کالز اور انٹرنیٹ کے لیے تین بنڈل پیش کرتی ہے۔ایمان بنڈل ایک کی قیمت بیس ریال ہے۔اس میں لیبارا سے لیبارا پندرہ دن تک ایک سو منٹ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔پانچ منٹ تک دوسرے نیٹ ورکس کے نمبروں پر کال کی جاسکتی ہے اور سات سو ایم بی انٹرنیٹ ڈیٹا مہیا کیا جاتا ہے۔اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ سم کارڈ ایکٹیویٹ ہونے کے بعد پچیس سعودی ریال کا لوڈ ہوجاتا ہے اور چوبیس گھنٹے میں پچاس ایم بی ڈیٹا اور پانچ منٹ تک بین الاقوامی کال کی جاسکتی ہے۔

ان چاروں کمپنیوں میں زین اور موبائلی کی سروس اچھی بتائی جاتی ہے۔ان کا جہاں جہاں نیٹ ورک موجود ہے، وہیں ان کی فون کالز اور نیٹ کی سپیڈ اچھی ہے۔زین کا ایک پیکج پچاسی ریال کاہے۔اس میں پانچ جی بی انٹر نیٹ فراہم کیا جاتا ہے اور ایک ہفتے تک زین سے زین مفت کال کی جاسکتی ہے۔اس کا ایک اور پیکج پچپن ریال کا ہے۔اس میں دو جی بی ڈیٹا اور سعودی عرب میں کسی بھی نیٹ ورک پر تیس منٹ تک فون کال کی جاسکتی ہے۔اس لحاظ سے ایک منٹ ایک ریال اورایک جی بی ڈیٹا ساڑھے بارہ ریال میں پڑتا ہے۔

زین کی سم ایکٹی ویٹ کروانے کے بعد صرف دس ریال کا بھی لوڈ کرایا جاسکتا ہے اور اس میں دس منٹ ہوتے ہیں۔ موبائلی فون کمپنی حجاج کرام کو پچاس اور ننانوے ریال میں نسبتاً دو بہتر پیکج پیش کرتی ہے۔پچاس ریال میں ایک سو بین الاقوامی منٹ ہوتے ہیں،اسی نیٹ ورک کے کسی اور نمبر پر دوسومنٹ تک کال کی جاسکتی ہے اوربیس منٹ دوسرے نیٹ ورک تک کال ہوسکتی ہے۔اسی پیکج میں ایک جی بی انٹرنیٹ ڈیٹا بھی شامل ہے۔

ان موبائل فون کمپنیوں کے مہنگے پیکجز کے علاوہ عازمین حج کو ان کی قیام گاہ ہوٹلوں میں وائی فائی کی مفت سہولت مہیا کی جارہی ہے۔پاکستانی عازمین کو مدینہ منورہ میں جن چار، پانچ ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے،ان میں تین میں تو کمروں میں بھی وائی فائی کی سہولت موجود ہے، البتہ ایک ہوٹل کی صرف لابی تک وائی فائی کی سہولت دستیاب ہے اور کمروں میں اس کے سگنل نہیں آتے ہیں جس کی وجہ سے حجاج کرام کو اپنے پیاروں سے رابطے کے لیے کمروں سے زیریں منزل میں جانا پڑتا ہے۔وہاں زیادہ تعداد میں لوگ کے وائی فائی استعمال کرنے کی وجہ سے سنگنل کمزور پڑجاتے ہیں اور بار بار انٹرنیٹ سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند