تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا غلطی کر رہا ہے ، تزویراتی تعلق کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی نہیں ہو گی : ترکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 17 ربیع الثانی 1441هـ - 15 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 10:23 - GMT 07:23
امریکا غلطی کر رہا ہے ، تزویراتی تعلق کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی نہیں ہو گی : ترکی
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت دفاع کی جانب سے انقرہ کو F-35 طیاروں کو فروخت روک دینے اور ترک ہوابازوں کو بے دخل کر دینے کا اعلان .. ایک جانب دارانہ فیصلہ ہے جو اتحاد کی روح کا مخالف ہونے کے ساتھ کوئی قانونی جواز نہیں رکھتا۔

جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ترکی کے صدر اور صدر ٹرمپ اس مفاہمت کے سلسلے میں مخلص ہوں جو اوساکا میں جی – 20سربراہ اجلاس کے دوران سامنے آئی تھی۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اس غلطی سے لوٹ آئے کیوں کہ اس کے سبب تزویراتی تعلق کو لگنے والا زخم ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ یک طرفہ اقدام اتحاد کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا اور قانونی وجوہات پر مبنی نہیں ہے۔

یاد رہے ک وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی کو F-35 لڑاکا طیارے فروخت نہیں کرے گا اور اسی طرح ترکی کو ان طیاروں کے ترقیاتی پروگرام میں شریک ہونے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کی وجہ انقرہ کا روس سے S-400 میزائل دفاعی سسٹم خریدنا ہے جو مذکورہ لڑاکا طیارے کی ٹیکنالوجی کے راز حاصل کرنے کے واسطے استعمال کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اسٹیفنی گریشم نے ایک بیان میں کہا کہ "افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ S-400 روسی فضائی دفاعی سسٹم خریدنے سے متعلق ترکی کے فیصلے نے F-35 طیارے کے پروگرام میں انقرہ کی شرکت کو ناممکن بنا دیا ہے"۔

تاہم خاتون ترجمان نے زور دے کر کہا کہ "امریکا وسیع پیمانے پر ترکی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا"۔

دوسری جانب پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکا سرکاری طور پر ترکی کو F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام سے دور کرنے کا آغاز کرے گا۔ پینٹاگان کے مطابق نیٹو اتحاد میں ترکی کے مستقبل کا فیصلہ اتحاد خود کرے گا۔

اسی طرح واشنگٹن نے تُرک ہوابازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 31 جولائی تک امریکا سے کوچ کر جائیں۔ اس لیے کہ واشنگٹن نے نیٹو اتحاد کے رکن ترکی کو جدید F-35 لڑاکا طیارے کو بنانے کے پروگرام سے دُور کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ منصوبے میں اس جدید ترین طیارے پر ترک ہوابازوں کے کسی بھی نئے تربیتی پروگرام کو فوری طور پر روک دینا شامل ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند