تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برطانیہ کو آبنائے ہُرمز میں اپنے مال بردار جہازوں کے تحفظ پر گہری تشویش لاحق
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 15:39 - GMT 12:39
برطانیہ کو آبنائے ہُرمز میں اپنے مال بردار جہازوں کے تحفظ پر گہری تشویش لاحق
لندن ۔ ایجنسیاں

برطانیہ نے اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز میں اپنے مال بردار جہازوں کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزیر دفاع پینی مورڈونٹ نے جمعرات کو ایک تقریر میں کہا ہے کہ وہ اس تشویش کے اظہار میں حق بجانب ہیں۔

وہ بحری افواج کی تعیناتی کے بارے میں ایک دفاعی کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔یہ کانفرنس ایران سے برطانیہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں منعقد کی گئی ہے۔ چار جولائی کو جبل الطارق میں برطانیہ کی شاہی بحریہ نے ایران کے ایک تیل بردار بحری جہاز کو پکڑ لیا تھا۔اس ٹینکر کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے لیے ایران کا خام تیل لے کر جارہا تھا۔

اس واقعے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہوچکے ہیں اور ایرانی لیڈر آئے دن برطانیہ کو اپنا تیل بردار بحری جہاز پکڑنے پر سبق سکھانے کے دھمکی آمیز بیانات جاری کررہے ہیں۔قبل ازیں خلیج عُمان میں گذشتہ دوماہ کے دوران میں چھے بحری جہازوں پر تخریبی حملے کیے گئے ہیں۔امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا لیکن اس نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

جبل الطارق میں ایرانی آئیل ٹینکر کو پکڑنے کے واقعے کے بعد برطانیہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے برٹش ہیرٹیج نامی جہاز پرایران اور جزیرہ نما عرب کے درمیان آبنائے ہُرمز کے نزدیک حملے کی کوشش کی گئی ہے۔ایرانی بحریہ کی کشتی مبیّنہ طور پر اس جہاز کے نزدیک آگئی تھی۔

برطانوی خاتون وزیردفاع نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں آبنائے ہُرمز میں اپنی (تجارتی) اشیاء کے تحفظ پر درست طور پر تشویش لاحق ہے‘‘۔

برطانیہ نے بدھ کو ایران پر زور دیا تھا کہ وہ خلیج میں کشیدگی میں کمی کرے جبکہ اس نے اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ خطے میں اپنی جہازرانی کے مفادات کا دفاع کرے گا۔

مس پینی مورڈونٹ سے جب خلیج میں تیسرے جنگی بحری جہاز کو بھیجنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ برطانیہ کو ہمیشہ سے خلیج اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں اپنے مفادات کے بارے میں تشویش لاحق رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا:’’ اہم بات یہ ہے کہ ہم ایران کو ایک بہت واضح پیغام دیں اور وہ یہ کہ وہ موجودہ صورت حال سے پیچھے قدم ہٹائے اور کشیدگی میں کمی کرے لیکن ہم ہمیشہ سے علاقے میں جہازرانی اور اشیاء کی آزادانہ نقل وحمل کا تحفظ کرتے چلے آرہے ہیں اور آیندہ بھی اس کا تحفظ کریں گے‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند