تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خلیج میں جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی آبی ٹریفک کی آزادانہ روانی کو یقینی بنانا ہے:برطانیہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 06:49 - GMT 03:49
خلیج میں جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی آبی ٹریفک کی آزادانہ روانی کو یقینی بنانا ہے:برطانیہ
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

برطانوی وزارت دفاع نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ خلیج عرب میں بحری جنگی جہاز'کنٹ' کے بھیجے جانے کا مقصد برطانی مفادات کا تحفظ اور آبی ٹریفک کی آزادانہ آمد ورفت کویقینی بنانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزارت دفاع کی سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد خلیج میں آبی ٹریفک کا تحفظ ضروری ہوگیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے برطانیہ نے اپنا جنگی بحری جہاز خلیج عرب میں تعینات کیا ہے۔ قبل ازیں برطانیہ کی طرف سے موقف اختیار کیاگیا تھا کہ جنگی بحری جہاز کی خلیج روانگی معمول کا حصہ ہے اور یہ کسی مخصوص مشن کے لیے نہیں بھیجا گیا۔

خیال رہے کہ جبرالٹر میں ایرانی تیل بردار جہاز پکڑے جانے کے بعد ایران نے برطانیہ کے جہازوں پرحملوں‌کی دھمکی دی تھی۔

منگل کو برطانوی وزارت دفاع نے کہا تھاکہ وہ اپنا ایک جنگی بحری جہاز'کنٹ' خلیجی پانیوں میں‌ بھیج رہا ہے۔ اس جہاز کو بھجوانے کا پلان پہلے سے تیار تھا جس کا مقصد خلیج میں موجود 'ویو نائیٹ' بحری جہاز کی مدد کرنا ہے۔لندن کی طرف سے سامنے آنے والے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی پانیوں میں جنگی جہاز روانہ کرنے کا مقصد بحری ٹریفک کو تحفظ اور برطانوی مفادات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

ادھر منگل کو برطانوی اخبار'دی ٹائمز' کی نامہ نگار نے کہا تھا کہ برطانیہ اپنا ایک تیسرا بحری جہاز بھی خلیج روانہ کرنے کی تیاری کررہا ہے مگر اس کا ایران کے ساتھ جاری تنازع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند