تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
منشیات کے بے تاج بادشاہ کا امریکا میں غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کا شکوہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 15:41 - GMT 12:41
منشیات کے بے تاج بادشاہ کا امریکا میں غیر منصفانہ عدالتی کارروائی کا شکوہ
لندن - كمال قبيسی

امریکا کے شہر نیویارک میں گذشتہ روز بدھ کو عدالت نے منشیات کے بدنام زمانہ اسمگلر خواکین گوزمین عُرفEl Chapo (چھوٹے قد والا) کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ گوزمین میکسیکو میں منشیات کی دنیا کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ تین شادیاں کر کے آٹھ بچوں کا باپ بنا۔ گوزمین کو 30 برس قید کی ایک اور سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ اسے 12.6 ارب ڈالر کے جرمانے کی ادائیگی بھی کرنا ہو گی۔ باسٹھ (62) سالہ گوزمین اب اپنی بقیہ زندگی ایک مشہور جیل میں گزارے گا جہاں سے کسی کا فرار ہونا مشکل ہے۔ اس جیل میں جرائم اور دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے مشہور عرب اور غیر ملکی قیدی موجود ہیں۔

رواں سال فروری میں بروکلن میں ججوں کی جیوری نے 11 ہفتوں تک جاری رہنے والی عدالتی سماعت کے بعد گوزمین کو دس الزامات میں قصور وار پایا تھا۔ سال 1989 سے 2014 تک اس نے کئی ٹن کوکین اور ہیروئن امریکا اسمگل کی، قتل کے جرائم کی منصوبہ بندی کی اور وہ غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور منی لانڈرنگ میں بھی ملوث رہا۔ وہ امریکا منشیات اسمگل کرنے والا سب سے بڑا تاجر بن گیا۔ ایک عرب ڈالر کی ذاتی دولت کے ساتھ گوزمین امریکی جریدے Forbes کی جانب سے جاری دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 701 نمبر پر پہنچ گیا۔

فروری میں ہونے والی عدالتی کارروائی میں گوزمین کے خلاف لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے گواہی دی جن میں بعض قریبی افراد بھی شامل ہیں۔ گواہان کے مطابق وہ کم عمر لڑکیوں کو نشہ کروانے کا حکم دیتا تھا جس کے بعد ان کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کرتا۔ گوزمین اپنے حریفوں اور مخالفین کے قتل ، اغوا اور ان پر تشدد کے جرائم میں بھی ملوث رہا ہے۔

عدالت کی ایک سماعت میں گوزمین کا کولمبیا سے تعلق رکھنے والا ساتھیAlex Cifuentes بھی حاضر ہوا۔ اس نے اپنی گواہی میں بتایا کہ میکسیکو کے سابق صدر انریک پنیا نیتو نے 2012 میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد گوزمین سے رابطہ کیا اور بدنام اسمگلر کا تعاقب ختم کرنے کے عوض 25 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا ... تاہم پھر 10 کروڑ پر اتفاق رائے ہوا اور گوزمین نے یہ رقم پنیا نیتو کو ادا کر دی۔ پنیا نیتو نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

گوزمین کی 30 سالہ بیوی ایما کورونل بھی عدالت کی اکثر سماعتوں میں موجود رہی۔ میکسیکن نژاد ایما امریکا میں پیدا ہوئی۔ وہ ماضی میں نوجوان لڑکیوں کا مقابلہ حسن بھی جیت چکی ہے۔ مقدمے کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ گوزمین اپنے موبائل فون میں ایک پروگرام استعمال کرتا تھا تا کہ اپنی بیوی اور محبوباؤں کی جاسوسی کر سکے۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ امریکیFBI اس کے موبائل فون کے ٹیکسٹ میسجز کی نگرانی کر رہی ہے۔ گوزمین نے اپنی بیوی کو بھیجے گئے ایک میسج میں بتایا تھا کہ وہ کس طرح ایک بنگلے سے فرار ہوا۔ وہ اپنی بیوی سے نئے کپڑے اور جوتے لانے کا بھی مطالبہ کرتا تھا۔ ایف بی آئی کے ایک نمائندے نے عدالت کو ٹیکسٹ میسجز کی کاپی پیش کی۔ اس کے علاوہ عدالت نے 2015 کے وسط میں گروزمین کے میکسیکو میں ایک جیل سے فرار ہونے کی تفصیلات بھی سُنیں۔

اس جیل میں شدید پہرہ تھا۔ گوزمین کے بیٹوں نے جیل کے قریب پراپرٹی خریدی تا کہ ایک سرنگ کھو دی جا سکے۔ وہ اس سرنگ کو عبور کر کے حیران کن طور پر جیل سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔

اس سے قبل گوزمین 2001 میں میکسیکو کی شدید پہرے والی Puente Grande جیل سے فرار ہوا تھا۔ اس فرار کا دورانیہ 13 برس تھا جب کہ دوسری مرتبہ فرار کی مدت صرف چھ ماہ رہی۔ یہ مدت جنوری 2016 میں گرفتاری کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ ایک برس بعد گوزمین کو امریکا کے حوالے کر دیا گیا جس نے اس ملک کی مارکیٹوں کو خطرناک ترین منشیات میں غرق کر دیا تھا۔ البتہ منشیات کی تجارت کے گینگSinaloa کا 62 سالہ سرغنہ کم از کم 26 افراد کے قتل کا بھی ذمے دار ہے۔

 

گوزمین نے نے عدالتی کارروائی کے اختتام سے قبل ہسپانوی زبان کے فوری مترجم کے ذریعے کہا کہ اس کی قید کے حالات چوبیس گھنٹے کی ذہنی اور نفسیاتی اذیت تھی۔ گوزمین نے مزید کہا کہ "اس بات کے پیش نظر کہ امریکی حکومت مجھے جیل بھیج دے گی اور آج کے بعد وہاں سے میرا نام نمودار نہیں ہو گا۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف عدالتی کارروائی منصفانہ نہیں رہی"۔ اس نے مقدمے کے ججBrian Cogan کو امریکا کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کا عدالتی نظام بدعنوان ہے جو کہ کسی بھی دوسرے بدعنوان ملک سے بہتر نہیں۔

گوزمین عُرف "اِل شاپو" 14 روز کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ گوزمین نے اس جیل کا نام نہیں بتایا جہاں امریکی حکومت اس کو رکھے گی۔ تاہم امریکا میں ہسپانوی زبان کے معروف ٹی وی نیٹ ورکUnivion کے مطابق گوزمین کو ریاست کولوراڈو میں شدید پہرے والی وفاقی جیلADX Florence میں رکھا جائے گا۔ یہاں دہشت گردی میں ملوث اہم کرداروں کو بھی رکھا گیا۔ ان میں واشنگٹن اور نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں ملوث مراکشی نژاد فرانسیسی شہری زکریا موسوی اور 1993 میں نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں دھماکوں کا ایک ذمے دار رمزی یوسف شامل ہے۔

یہ اور ان کے علاوہ مزید مشہور مجرمان مذکورہ جیل میں "منشیات کے بے تاج بادشاہ" کے ساتھ ہوں گے۔ رواں سال نومبر میں اس جیل کے افتتاح کے 25 سال پورے ہو جائیں گے۔ اس پورے عرصے میں یہاں کے قیدی صرف خواب میں ہی فرار ہو پائے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند