تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بحیرۂ احمر میں جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کریں‌ گے: سربراہ عرب اتحاد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م KSA 09:20 - GMT 06:20
بحیرۂ احمر میں جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کریں‌ گے: سربراہ عرب اتحاد
شہزادہ فهد بن تركی اور جنرل کینتھ ماکینزی
الریاض ۔ حسین مسعد، ایجنسیاں

یمن میں آئینی حکومت کی معاونت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں سرگرم عرب فوجی اتحاد کے سربراہ شہزادہ فہد بن ترکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر عرب اتحاد بحیرۂ احمر میں چلنے والے بحری جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرے گا۔

خبر رساں ادارے' رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے شہزادہ فہد بن ترکی کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد بحیرۂ احمر سے گذرنے والے مال بردار جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔ ہم اس مشن میں گذشتہ چند سال سے کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ عرب اتحاد نے ماضی میں بھی بحیرۂ احمر میں حوثی ملیشیا کے بحری جہازوں پر حملے نام بنائے۔ اس دوران ترکی اور سعودی عرب کے جہازوں کے ساتھ بھی حادثات پیش آئے اور انہیں‌ بھی تحفظ دیا گیا۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کی شہری تنصیبات پر حملے کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی حوثیوں سے صرف سعودی عرب کو خطرہ لاحق ہے۔ حوثی باغی پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

درایں اثناء امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل کینتھ ماکینزی نے الریاض میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکی فوج اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر خلیج میں بحری ٹریفک کی آزادانہ نقل وحرکت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف پہلوئوں پر غور کر رہی ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ یہ کوئی ڈھمکی چھپی بات نہیں رہی کہ خطے میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں میں‌ بھی ایران ملوث ہے۔ قبل ازیں امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ نے سعودی عرب کے الخرج شہر کا دورہ کہا جہاں‌ انہیں یمن میں‌ پکڑا گیا ایرانی اسلحہ بھی دکھایا گیا۔

جنرل ماکینزی نے کہا کہ میں‌ یہ نہیں کہتا کہ امریکا اپنی فوج خلیج میں تعینات کرے گا مگر خطے میں درپیش خطرات کے تدارک کے لیے تمام ممکنہ پہلوئوں پر غور کریں گے۔

سعودی عرب کے دورے کے دوران امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ نے سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی۔ قبل ازیں وہ قطر گئے جہاں انہوں‌ نے امیر قطر تمیم بن حمد سے ملاقات کی تھی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند