تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دھماکے سے تباہ ہونے والا روسی جوہری میزائل امریکا کے لیے خطرہ ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 12 ذوالحجہ 1440هـ - 14 اگست 2019م KSA 14:03 - GMT 11:03
دھماکے سے تباہ ہونے والا روسی جوہری میزائل امریکا کے لیے خطرہ ہے؟
واشنگٹن ۔ منى الشقاقی

روس کی جانب سے (جوہری توانائی سے متحرّک) ایک نئے میزائل کے ناکام تجربے نے امریکا اور روس کے بیچ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے حوالے سے ایک بار پھر متنازع بحث چھیڑ دی ہے۔ جمعرات کے روز پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اگرچہ روس کی جانب سے اس تجربے کے حوالے سے جاری معلومات بہت قلیل تھیں تاہم میزائل پر کام کرنے والے سائنس دانوں کی ہلاکت اور ملحقہ علاقوں میں جوہری تابکاری کے تناسب میں اضافے نے ماہرین کو یہ خیال کرنے پر مجبور کر دیا کہ روس Sky Fall میزائل کا تجربہ کر رہا ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے جوہری ری ایکٹر سے متحرک غیر محدود فاصلے کا ایک پروگرامڈ میزائل ہے جو امریکی دفاعی نظام سے بچ کر کرہ ارض پر کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتین نے گذشتہ برس اپنے ایک خطاب کے دوران اس میزائل کی وڈیو پریزینٹیشن دی تھی۔

کیا یہ میزائل امریکا کے لیے خطرہ ہے ؟ اس حوالے سے چند سوالات کا جواب جاننے کے لیے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے میزائل دفاع سے متعلق امور کے سینئر ماہر مائیکل ایلمن سے خصوصی بات چیت کی۔ ایلمن واشنگٹن میں انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔

مائیکل ایلمن کے مطابق روس نے اس میزائل کے 14 سے زیادہ ناکام تجربات کیے ہیں، غالبا وہ اس پر کئی سال تک کام جاری رکھیں گے۔ جہاں تک امریکا کے لیے خطرہ بننے کی بات ہے تو یہ روس کے پاس موجود دیگر کسی بھی جوہری میزائل سے زیادہ سنگین خطرہ نہیں ہے جس کو ماسکو نے امریکا اور اس کے حلیفوں کی سمت رکھنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔ میرے نزدیک تزویراتی توازن نہیں بگڑا اور یہ منصوبہ پوتین کی انا کی تسکین سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

امریکی ماہر نے کہا کہ یہ میزائل کئی گھنٹوں کی طویل مسافت طے کرنے کے حوالے سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کئی روز تک فضا میں معلق رہ سکتا ہے۔ البتہ روس کے موجودہ بیلسٹک میزائل بھی حالیہ عرصے میں موجود کسی بھی فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میزائل کا آئیڈیا نیا نہیں ہے ، امریکا 1960 کی دہائی میں اسی سے ملتے جلتے منصوبے "پلوٹو" پر کام کر چکا ہے۔ تاہم اس کی لاگت بہت زیادہ اور فوائد کم تھے لہذا اس منصوبے کو نظرانداز کر دیا گیا۔

مائیکل ایلمن کے مطابق جہاں تک جوہری طاقت سے میزائل کو متحرک کرنے کی بات ہے تو یہ یقینا ممکن ہے مگر اس سے روس کو کوئی نئی تزویراتی برتری حاصل نہیں ہو گی البتہ کسی بڑے حادثے یا آفت کے وقوع کے مواقع بہت زیادہ ہوں گے۔ ذرا سوچیے کہ متحرک جوہری ری ایکٹروں کے تصادم کی سورت میں کیا ہو گا جب کہ اس کے ساتھ جوہری تابکاری بھی ہو ؟

میزائل دفاع کے امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ درحقیقت روس کا یہ تجربہ درمیانی مار کرنے والے ہتھیاروں سے متعلق کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس میزائل کی پہنچ درمیانی مار سے زیادہ ہے۔

اس نئے میزائل کا تجربہ "Strategic Arms Reduction Treaty" یعنی START کے معاہدے کے ضمن میں نہیں آتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ میزائل نئے "اسٹارٹ" معاہدے کی تجدید پر اثر انداز ہو گا کیوں کہ تجدید کی راہ میں رکاوٹیں سیاسی نوعیت کی ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند