تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی پر لیبی حکومت کو لیز پر اسلحہ فراہم کرنے کا الزام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 14 ذوالحجہ 1440هـ - 16 اگست 2019م KSA 07:01 - GMT 04:01
ترکی پر لیبی حکومت کو لیز پر اسلحہ فراہم کرنے کا الزام
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ منیہ غانمی

لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو ترکی کی طرف سے مسلسل عسکری اور فوجی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ نے الزام عاید کیا ہے کہ ترکی نے ترکی لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو جدید ترین اور لیزر اسلحہ فراہم کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوجی امور پرمعلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ'آرمی ریکگنیشن' کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی لیبیا میں جنگ کی آگ بھڑکانے کا ذمہ دار ہے۔ انقرہ کی طرف سے طرابلس حکومت کو لیزر ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں جنہیں لیبیا کی قومی فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک سینیر عسکری تجزیہ نگار الیکذنڈر تیموخین نے بتایا کہ ترکی کچھ عرصے سے جدید ترین اسلحہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو فراہم کررہا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں طرابلس پرحملہ آور فوج کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ترکی نہ صرف لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے بلکہ عسکری مشیر اور فوجیوں کو ٹریننگ دینے والے ماہرین بھی فراہم کیے ہیں۔ حال ہی میں شام سے جنگجوئوں کو بھی لیبیا بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق ترکی کی جانب سے فراہم کردہ لیزر ہتھیار لیبی حکومت کی وفادار فورسز کی بکتر بند گاڑیوں پر نصب ہیں۔ جدید دفاعی نظام سے ہدف کی نشاندہی اور لیزر ہتھیاروں سے اسے مکمل طور پرتبادہ کرنے کی اجازت ہے۔

کشیدگی کے شکار ملک لیبیا پر سلامتی کونسل کی طرف سے بعض پابندیاں عاید ہیں مگر ترکی ان پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے۔

جمعرات کو العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ لیبی فوج نے ترکی کی سرحد کے قریب لیبی حکومت کےزیرانتظام ایک فوجی اڈے کے رن وے پر بمباری کی اور وہاں پرموجود ترکی کے ڈرون طیاروں کو نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار فوج نے اپریل میں لیبیا کی قومی وفاق حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے طرابلس کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی۔ اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق اب تک لڑائی میں 1100 افراد ہلاک اور قریبا ایک لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند