تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹرمپ کو رعائتیں پیش نہیں کروں گا خواہ قیمت میری بیٹی کو چکانا پڑے : بانی ہواوے کمپنی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 18 ذوالحجہ 1440هـ - 20 اگست 2019م KSA 15:45 - GMT 12:45
ٹرمپ کو رعائتیں پیش نہیں کروں گا خواہ قیمت میری بیٹی کو چکانا پڑے : بانی ہواوے کمپنی
چین – ایجنسیاں

ٹکنالوجی کی دنیا کی معروف چینی کمپنی ہواوے کے بانی رین ژینگفی کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں موجودہ سیاسی فضاؤں کے سبب وہ امریکی پابندیاں ختم ہونے کی توقع نہیں رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا کہ کمپنی ترقی کی منازل طے کرے گی کیوں کہ وہ اپنی ٹکنالوجی کو خود جدید بناتی ہے۔

منگل کے امریکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ژینگفی نے کہا کہ اگر امریکی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے کسٹم ڈیوٹی کی جنگ میں چین سے رعائتوں کا مطالبہ کیا گیا تو انہیں اس کی خواہش ہر گز نہیں ،،، اگرچہ اس کا مطلب یہ ہو کہ ان کی بیٹی کو زیادہ طویل قانونی تنازع کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ہواوے کمپنی کے بانی کی بیٹی اس وقت کینیڈا میں نظر بند ہیں۔ ان پر امریکی عدالت نے فوجداری نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

واشنگٹن نے پیر کے روز ہواوے ٹکنالوجیز کے لیے امریکی کمپنیوں سے خریداری کی مہلت میں 90 روز کی توسیع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ قومی سلامتی سے متعلق وجوہات کی بنا پر وہ چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ کسی قسم کی تجارتی کارروائی کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔

امریکی وزارت تجارت نے رواں سال مئی میں ہواوے کمپنی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں امریکی کمپنیوں کے لیے خصوصی اجازت نامے کے بغیر ہواوے کمپنی کو ٹکنالوجی کی فروخت یا منتقلی ممنوع ہو گی۔

ہواوے کمپنی نے جوابی بیان میں کہا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ خاص اس وقت میں اس نوعیت کے فیصلے کا اعلان سیاسی پہلو کا حامل ہے اور امریکی قومی سلامتی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کمپنی کے مطابق امریکی اقدامات آزاد منڈی میں مسابقت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات امریکی کمپنیوں سمیت کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں .. ہواوے کمپنی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں امریکا کے لیے ٹکنالوجی کے میدان میں قیادت کو یقینی بنانے میں ہر گز مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند