تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی ٹینکر نے تیل شام کے حوالے کیا تو حرکت میں آئیں گے : پومپیو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م KSA 07:53 - GMT 04:53
ایرانی ٹینکر نے تیل شام کے حوالے کیا تو حرکت میں آئیں گے : پومپیو
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو
العربیہ ڈاٹ نیٹ – ایجنسیاں

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کا رخ کیا تو امریکا اسے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

منگل کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ "ہم واضح کر چکے ہیں کہ کسی نے بھی اس (جہاز) کو چُھوا، یا سپورٹ کیا اور یا پھر کسی نے بھی اسے لنگر انداز ہونے کی اجازت دی تو اسے امریکی پابندیوں کا نشانہ بننا پڑے گا"۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز باور کرایا تھا کہ پیر کے روز جبل طارق سے کوچ کر جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کی مدد کو "دہشت گرد تنظیموں" کی سپورٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے بتایا کہ "ہم نے یونان کو آگاہ کر دیا کہ ایرانی تیل بردار جہاز غیر قانونی طور پر تیل کو شام منتقل کر رہا ہے .. ہم نے ایرانی تیل بردار جہاز کے حوالے سے اپنا مضبوط مخالف موقف یونانی حکومت کو پہنچا دیا"۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو یہ کہہ چکے ہیں کہ طویل ہفتوں تک تحویل میں رکھنے کے بعد ایرانی تیل بردار جہاز کو کوچ کی اجازت دینا افسوس ناک ہے۔

فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کے زیر انتظام ریجن کی حکومت کا فیصلہ "انتہائی افسوس ناک ہے"۔ پومپیو کے مطابق اس تیل بردار جہاز پر لدی کھیپ کی فروخت سے تہران کو ایرانی مسلح افواج کی فنڈنگ کا موقع ملے گا جنہوں نے دنیا بھر میں دہشت اور تباہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ امریکیوں کو قتل کیا۔

چار جولائی کو جبل طارق کے حکام کے ہاتھوں تحویل میں لیے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز ایڈریان ڈیریا 1 (جو پہلے گریس 1 کے نام سے جانا جا رہا تھا) کو 18 اگست کو چھوڑ دیا گیا۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق تیل بردار جہاز نے یونان کی کالا ماتا بندرگاہ کا رخ کیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند