تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈاکٹر ذاکر نائک نے متنازع بیان پر ملائیشین عوام سے معافی مانگ لی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م KSA 06:52 - GMT 03:52
ڈاکٹر ذاکر نائک نے متنازع بیان پر ملائیشین عوام سے معافی مانگ لی
کولالمپور ۔ ایجنسیاں

بھارت کے جلا وطن سخت گیر مذہبی رہ نما ڈاکٹر ذاکر نائک نے اپنے ایک متنازع بیان پر ملائیشین قوم سے معافی مانگ لی ہے۔ متنازع بیان پرڈاکٹر نائک کو ملائیشین پولیس کی جانب سے پوچھ تاچھ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

خیال رہےکہ بھارت سے تعلق رکھنے والے اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک پر بھارتی حکومت کی طرف سے مذہبی منافرت پھیلانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات عاید کیے ہیں۔ حال ہی میں ملائیشیا میں مسلمان اکثریت اور مذہبی اقلیتوں کےحوالے سےان کے ایک بیان پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملائیشیا میں موجود ہندو اقلیت کو بھارت میں مسلمان اقلیت کی نسبت 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ نیز چینی ملائیشین چینی ملک میں مہمان ہیں۔

ملائیشیا میں نسل اور مذہب دو حساس مسئلے ہیں۔ ملک کی 60 فی صد آبادی مسلمانوں پرمشتمل ہے جن کی کل تعداد تین کروڑ بیس لاکھ ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ چینی اور بھارتی باشندے ہیں جن میں بڑی تعداد ہندئوں کی ہے۔

تین سال سے ملائیشیا میں پناہ گزین ڈاکٹر ذاکر نائک نےپولیس کی تفتیش کےدوران کہا کہ ان کے بیان کا مقصد نسل پرستی کی حمایت ہرگز نہیں بلکہ وہ نسل پرستی کے مرتکب ممالک پرتنقید کرتے ہیں۔ ان کے بیانات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

منگل کوایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں کسی فرد یا گروہ کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا۔ اگر میرے کسی بیان پر کسی طبقے کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔

اسی حوالے سے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی عالم دین کو اسلام کےحوالے سے بات کرنےکی مکمل آزادی ہے مگرانہیں ملائیشیا میں نسلی امور پربات کرنے سے گریز کرنا چاہیے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند