تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی سمندری ٹینکر نے اپنا تیل شام کے حوالے کیا ہے : واشنگٹن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 13 محرم 1441هـ - 13 ستمبر 2019م KSA 10:39 - GMT 07:39
ایرانی سمندری ٹینکر نے اپنا تیل شام کے حوالے کیا ہے : واشنگٹن
واشنگٹن – ایجنسیاں

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ایرانی تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" نے اپنے خام تیل کی کھیپ شامی حکومت کو منتقل کی ہے اور اپنے اس وعدے کی پاسداری نہیں کی کہ وہ شام کو تیل فروخت نہیں کرے گا۔

اس سے قبل برطانوی کمانڈوز نے چار جولائی کو جبل طارق کے نزدیک اس ایرانی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لے لیا تھا جو اس وقت "گریس 1" کے نام سے جانا گیا تھا۔ جہاز کو اس شک کی بنیاد پر تحویل میں لیا گیا تھا کہ وہ شام کو تیل منتقل کر کے یورپی یونین کی جانب سے دمشق پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بعد ازاں جبل طارق کے حکام نے 15 اگست کو یہ تیل بردار جہاز چھوڑ دیا۔ جہاز کی رہائی ایران کی جانب سے اس بات کی تحریری یقین دہانی کے بعد عمل میں آئی کہ وہ جہاز پر لدا 21 لاکھ بیرل تیل شام میں نہیں اتارے گا۔

منگل کے روز برطانیہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے تیل بردار جہاز کے حوالے سے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خام تیل کی کھیپ شامی صدر بشار الاسد کو فروخت کر دی ہے اور تیل شام منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس کے اگلے روز لندن میں برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے طلب کیے جانے والے ایرانی سفیر حمیدی بعیدی نجاد نے بتایا کہ ایڈریان ڈاریا 1 پر لدی تیل کی کھیپ کو سمندر کے بیچ ایک نجی کمپنی کو فروخت کر دیا گیا ہے۔ نجاد نے اس امر کی تردید کی کہ تہران اس تیل بردار جہاز کے حوالے سے پیش کی گئی یقین دہانیوں کی مخالفت کا مرتکب ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے باور کرایا کہ مذکورہ خریدار ہی آگے فروخت کا تعین کرے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹاگوس نے کہا ہے کہ "یقینا ایران نے یہ تیل شام کے حوالے کیا ہے۔ یہ تیل براہ راست اُن فورسز کے ٹینکروں میں جا رہا ہے بے قصور شامیوں کا قتل عام کرتی ہیں"۔

مورگن سے جب پوچھا گیا کہ آیا ان کے پاس اس امر کے ثبوت ہیں تو ان کا جواب تھا "اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کبھی اس طرح کی بات نہ کرتے"۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند