تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران سے حملہ کیا گیا: امریکی عہدہ دار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 17 محرم 1441هـ - 17 ستمبر 2019م KSA 19:35 - GMT 16:35
سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران سے حملہ کیا گیا: امریکی عہدہ دار
واشنگٹن ۔ ایجنسیاں

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ایران کی سرزمین سے حملہ کیا گیا تھا اور اس حملےمیں کروز میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔

یہ بات امریکا کے ایک عہدہ دار نے منگل کے روز بتائی ہے۔انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ امریکا نے سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر حملوں کی ابتدائی تحقیقات کی ہے۔وہ ابھی مزید شواہد اکٹھے کررہا ہے اور وہ انھیں آیندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی برادری بالخصوص اپنے یورپی اتحادیوں کے سامنے پیش کرے گا۔

اس عہدہ دار سے جب پوچھا گیا کہ کیا امریکا کو کامل یقین ہے کہ میزائل ایرانی سرزمین سے ہی داغے گئے تھے؟اس کے جواب انھوں نے کہا کہ ’’ جی ہاں‘‘۔ان کے بہ قول امریکی انٹیلی جنس سروسز میزائلوں کو داغنے کی جگہ کا تعیّن کرنے کی صلاحیت کی حامل ہیں۔تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ کل کتنے میزائل داغے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔‘‘

گذشتہ ہفتہ کے روزعلی الصباح سعودی آرامکو کی بقیق میں واقع تیل مصفا کرنے کی سب سے بڑی تنصیب اور خریص ہجرۃ میں واقع آئل فیلڈ پر حملے سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں تیزی آگئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں گذشتہ تین عشرے کے دوران میں پہلی مرتبہ نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن سعودی عرب اور امریکا نے ایران پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکا کے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایران سے حملہ کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو سیدھے سبھاؤ ایران ہی کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بھی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ایرانی ساختہ ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند