تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کینیڈا کے وزیراعظم کی عربی بھیس میں تصویر اُن کے منصب کے لیے خطرہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 20 محرم 1441هـ - 20 ستمبر 2019م KSA 12:13 - GMT 09:13
کینیڈا کے وزیراعظم کی عربی بھیس میں تصویر اُن کے منصب کے لیے خطرہ
لندن - كمال قبيسی

کینیڈا میں 21 اکتوبر کو مقررہ وفاقی انتخابات کے سلسلے میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی دوسری مدت کے لیے انتخابی مہم کو اُن کی ایک پرانی تصویر کے باعث بھونچال کا سامنا ہے۔ یہ تصویر 2001 میں کینیڈا کے شہر "وینکوور" کی ایک مشہور اکیڈمی West Point Grey میں "Arabian Nights" کے نام سے منعقد ایک ایونٹ کے دوران لی گئی تھی۔ جسٹن ٹروڈو تصویر میں عربی لباس زین تن کیے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اُس وقت ان کی عمر 29 برس تھی اور وہ مذکورہ اکیڈمی میں بطور استاد ذمے داریاں انجام دے رہے تھے۔

ٹروڈو کی ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ وزیراعظم اس تصویر میں "علاء الدين" کے کراد کے بھیس میں ہیں۔ اس تصویر کی بازگشت تیزی کے ساتھ امریکی میڈیا تک بھی پہنچ گئی۔ امریکی جریدےTIME نے بدھ کے روز اس کے متعلق خبر اپنی ویب سائٹ پر نشر کی۔ تصویر میں ٹروڈو چار نوجوان لڑکیوں کے بیچ نظر آ رہے ہیں۔ علاء الدین کے بھیس میں ان کے چہرے اور ہاتھوں کو میک اپ کے ذریعے سیاہ کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ اس نوعیت کے میک اپ کے سبب ایک امریکی ریاست کے گورنر اپنے عہدے سے ہاتھ دھونے کے قریب پہنچ گئے تھے۔

واضح رہے کہbrownface کے نام سے معروف اس میک اپ میں نسل پرستی کا تاثر ملتا ہے۔ اسی وجہ سے گذشتہ چار برسوں میں خود کو کینیڈا میں نسلی اقلیتوں کا دفاع کرنے والے کے طور پر پیش پیش وزیراعظم ٹروڈو ،،، معذرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کینیڈا کےCBC ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ ٹروڈو نے تسلیم کیا کہ انہوں نے علاء الدین کا لباس پہنا اور خصوصی پاؤڈر لگایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ ایسی چیز تھی جس کو میں نے اُس وقت نسل پرستی پر مبنی خیال نہیں کیا ،،، تاہم اب میں سمجھتا ہوں کہ میرا ایسا کرنا نسل پرستانہ فعل تھا ... البتہ میں عدم رواداری اور نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا خواہ میں نے ماضی میں کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو"۔

جسٹن ٹروڈو نے گذشتہ روز انتخابی مہم میں اپنے ہمراہ موجود صحافیوں سے کہا کہ "مجھے خود پر غصہ آ رہا ہے اور مجھے بہت مایوسی محسوس ہو رہی ہے"۔ انہوں نے کینیڈا کے عوام سے اپنی اس تصویر پر معافی کا مطالبہ کیا جو انتخابات سے محض ایک ماہ قبل منظر عام پر آ کر ان کی انتخابی مہم کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہوئی ہے۔

اس دوران ٹروڈو کے انتخابی حریفوں نے کینیڈا کے وزیراعظم کی تصویر کا نسل پرستانہ نوعیت کی ایک دوسری تصویر سے موازنہ شروع کر دیا ہے۔ یہ تصویر رواں سال جنوری میں ایک امریکی اخبار نے شائع کی تھی۔ تصویر میں امریکا کی ریاست ورجینیا کے موجودہ گورنر Ralph Northam امریکا کی ایک نسل پرستانہ شدت پسند تنظیمKu Klux Klan کے ارکان جیسا مخصوص لباس پہنے نظر آ رہے ہیں۔ ورجینیا کے گورنر نے تسلیم کیا تھا کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص وہ خود ہیں اور انہیں اس حلیے میں تصویر بنوانے کے فیصلے پر افسوس ہے۔ تاہم کچھ روز بعد گورنر نے اپنا بیان تبدیل کر دیا اور کہا کہ ان کا یہ خیال نہیں کہ سیاہ فام امریکی کی صورت میں موجود شخص وہ خود ہیں بلکہ یہ کوئی اور شخص ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ تصویر ان کی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند