تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے: امریکا
پاسداران انقلاب کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م KSA 07:41 - GMT 04:41
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے: امریکا
پاسداران انقلاب کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکی
امریکی ائیر کرافٹ کیرئیر ابراہم لنکن۔ [فائل فوٹو]
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ایران کا مسئلہ پُرامن طریقے سے حل نہ ہو۔ ایران کو پرامن طریقے سے قابو نہ کیا جاسکا تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔

'فاکس نیوز' کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ بہت سے منظر نامے موجود ہیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ ایران کا معاملہ جنگ کے بغیر حل ہو جائے مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

پینٹاگون نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کو سعودی ارامکو تنصیبات پر دہشت گردانہ حملوں کا جواب دینے کے لئے متعدد آپشن فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ میزائل لانچنگ کے مقام کا کا پتا لگانے کے لیے ریاض کے ساتھ مشترکہ تعاون کیا جا رہا ہے۔

ادھر ایک سینیر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی امریکی کارروائی کے جواب میں بحیرہ روم سے بحر ہند تک جوابی کارروائی کرے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر جنرل یحیی رحیم صفوی نے امریکا کوسنگین نتائج کی دھمکی دی اور کہا اگر ایران پرحملہ ہوا تو امریکا کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

سعودی وزارت دفاع نے ارامکو حملوں میں استعمال ہونے والے ایرانی ہتھیاروں کے ثبوت فراہم کرنے کے باجود تہران ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکاری ہے۔

امریکی فوجی عہدیداروں نے بتایا کہ پینٹاگون، ٹرمپ کی سربراہی میں قومی سلامتی کونسل میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس کے دوران تہران کے خلاف مختلف آپشن پیش کرے گا، جس میں گذشتہ ہفتے کے روز ایران کی طرف سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

'ایسوسی ایٹ پریس' [اے پی] امریکی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پینٹاگون امریکی صدر کے لیے وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز پیش کرے گا۔ امریکا سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو غیرمعمولی حملہ سمجھتا ہے اور اس حملے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ ٹرمپ کے سامنے دوسرے ممکنہ ردعمل کے علاوہ ایران کے اندر فضائی حملوں کے لیے ممکنہ اہداف کی ایک فہرست بھی پیش کریں گے۔

فوجی کمک

وال اسٹریٹ جرنل نے فوجی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ پینٹاگون فضائی دفاع کی بیٹریاں بھیجنے کے اختیارات پر غور کر رہا ہے۔ نیز ارامکو حملوں کے بعد اپنے دفاع کو مزید تقویت دینے کے لیے خلیجی علاقے میں ہوائی جہاز اور نگرانی کے ساز و سامان بھیجنے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

دوسرے اختیارات میں مستقبل قریب میں خطے میں کم از کم ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو برقرار رکھنے پر بھی غور ہو رہا ہے۔

جمعرات کے روز واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس میں امریکی اسسٹنٹ سکریٹری برائے دفاع جوناتھن ہافمین نے کہا کہ ارمکو کی تنصیبات پر حملوں میں ایران کسی نہ کسی طرح سے ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا ، "ہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ارامکو حملے کا جواب دینے کے مکمل اختیارات دیں گے۔ ارامکو کی تنصیبات پر حملے انتہائی مربوط تھے۔ ہم ارامکو حملوں کی سعودی تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں اور تحقیقات میں مدد کریں گے۔ ارامکو تنصیبات پر حملے ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور ہم سعودی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن شمالی سعودی عرب سے کسی بھی قسم کے خطرات کی روک تھام کے لیے ریاض سے مشاورت کر رہا ہے۔

سعودی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران کی حمایت سے سعودی ارامکو تنصیبات پر شمال کی سمت سے حملے کیے گئے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند