تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
متنازع ریاست جموں و کشمیرمیں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،چارحرّیت پسند مارے گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 28 محرم 1441هـ - 28 ستمبر 2019م KSA 20:54 - GMT 17:54
متنازع ریاست جموں و کشمیرمیں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں،چارحرّیت پسند مارے گئے
سری نگر میں پولیس اہلکار سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی قیام گاہ کے باہر پہرا دے رہے ہیں۔
نئی دہلی ۔ ایجنسیاں

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں چار حرّیت پسند جنگجو مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز نے جموں شہر کے علاقے باٹوٹ میں ایک کارروائی کی ہے اور اس میں تین جنگجو مارے گئے ہیں۔بھارت کی سنٹرل ریزور پولیس فورس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک مکان میں ایک مقامی شہری کو یرغمال بنا رکھا تھا۔کارروائی کے بعد اس شہری کو بہ حفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

ریاست جموں وکشمیر کی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دل باغ سنگھ نے کہا ہے کہ شمالی علاقے کنگن میں پولیس کے ساتھ مقابلے میں ایک جنگجو مارا گیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگجوؤں نے سری نگر شہر کے علاقے صفاکدل میں دستی بم پھینکا تھا لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہو اہے۔

بھارتی فورسز نے جمعہ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر سے قبل مسلم اکثریتی ریاست کشمیر میں سکیورٹی سخت کردی تھی۔انھیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ اس تقریر کے بعد مقبوضہ وادی اور جموں میں ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تنازع کشمیرپر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور یہ ایک مکمل جوہری جنگ پر منتج ہوسکتا ہے۔اس جنگ کے پھر پوری دنیا کے لیے مضمرات ہوں گے۔دوسری جانب بھارت تنازع کشمیر کو اپنا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے اور وہ اس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی ثالثی یا بیرونی مداخلت کو مسترد کرچکا ہے۔

بھارت نے پانچ اگست کو ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی۔اس اقدام سے قبل وہاں اپنے مزید ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کردیے تھے۔بھارت کے اس اقدام کے بعد سے پوری مقبوضہ وادیِ کشمیر میں شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔ریاست میں گذشتہ سات ہفتے سے انٹرنیٹ اور سیل فون کی سروس بند ہے۔

بھارتی سکیورٹی فورسز نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے سیکڑوں سیاسی اور کمیونٹی لیڈروں کو گرفتار کررکھا ہے۔ان میں سے بیشتر ابھی تک زیر حراست ہیں اور بعض کو ریاست سے باہر بھارت کے دوسرے شہروں کی جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند