تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حوثی ملیشیا کی جیلوں میں 320 خواتین قید ہیں: یمنی حکومت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 12 صفر 1441هـ - 12 اکتوبر 2019م KSA 13:23 - GMT 10:23
حوثی ملیشیا کی جیلوں میں 320 خواتین قید ہیں: یمنی حکومت
العربیہ ڈاٹ نیٹ - اوسان سالم

یمن میں آئینی حکومت کے زیر انتظام انسانی حقوق کی وزارت نے انکشاف کیا ہے کہ اب بھی 320 یمنی خواتین باغی حوثی ملیشیا کی جیلوں میں قید ہیں۔ وزارت کے مطابق حکومت عالمی برادری کے ساتھ مل کر بڑی حد تک کوششیں کر رہی ہے تا کہ ان خواتین کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

یہ بات انسانی حقوق کے یمنی وزیر محمد عسکر نے مشرق وسطی میں امن و سلامتی سے متعلق وارسا کانفرنس کے اختتامی سیشن میں خطاب کے دوران بتائی۔ دو روزہ کانفرنس کی میزبانی واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ نے کی۔

یمنی وزیر کے مطابق القاعدہ اور داعش تنظیموں کی جانب سے دہشت گرد کارروائیوں میں خواتین کا استعمال کیا گیا۔ محمد عسکر نے باور کرایا کہ یمنی حکومت عورت اور امن سے متعلق سلامتی کونسل کی قرار داد 1325 کو سپورٹ کرتی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں عمل درامد کے لیے اور ایک قومی منصوبہ وضع کرنے کے واسطے وزارتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی جاری کیا ہے۔

یمنی وزیر نے ملک میں تباہی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کے قتل اور زخمی ہونے کی تمام تر وجوہات کا ذمے دار باغی حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا۔

محمد عسکر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرار داد 1325 پر عمل درامد کے لیے یمنی حکومت کی کوششوں کو سپورٹ کرے۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگ کے خاتمے اور امن کو مضبوط بنانے کے لیے قرار داد 2216 اور اس پر عمل درامد کی سپورٹ بہت ضروری ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند