تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 14 صفر 1441هـ - 14 اکتوبر 2019م KSA 23:16 - GMT 20:16
ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب
صدارتی امیدوار قیس سعید دارالحکومت تیونس میں ایک پولنگ اسٹیشن میں ووٹ ڈالنے کے بعد باہر نکل رہے ہیں۔
تیونس ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

تیونس (تونس) میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور انھوں نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 76.9 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

صدارتی انتخابات کے اس دوسرے مرحلے میں گذشتہ ماہ منعقدہ پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صرف دو امیدواروں قیس سعید اور میڈیا ٹائیکون نبیل القروی کے درمیان مقابلہ تھا۔

دوسرے مرحلے کی پولنگ میں تیونس کے رجسٹرڈ ووٹروں نے پہلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اتوار کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1430 (جی ایم ٹی) بجے تک ووٹ ڈالنے کی شرح 39.2 فی صد تھی۔صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں1400 جی ایم ٹی تک ووٹ ڈالنے کی شرح 27.8 فی صد رہی تھی۔

پروفیسر قیس سعید نے اپنی صدارتی مہم میں کوئی زیادہ خرچہ نہیں کیا لیکن انھیں بائیں بازو اور اسلام پسندوں دونوں کی حمایت حاصل تھی۔وہ اپنے حریف کے مقابلے میں صدر کے عہدے کے لیے ایک مختلف نقطہ نظر کے حامل ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تیونس براہِ راست جمہوریت کا تجربہ کرے۔

نبیل القروی نے اپنے ملکیتی ٹیلی ویژن اسٹیشن پر اپنی خیراتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا تھا اور غریب ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے ملک کی کاروباری اشرافیہ اور سیکولر تیونسیوں سے قدامت پرست نقطہ نظر کے حامل پروفیسر قیس سعید کے مقابلے میں حمایت کی اپیل کی تھی۔

نبیل قروی کو اگست میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے سے قبل منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا قریباً تمام عرصہ جیل ہی میں گزارا ہے۔انھیں تیونس کی ایک اپیل عدالت نے گذشتہ بدھ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی تردید کی تھی۔

یورپی یونین کے مبصر مشن نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ تیونس میں صدارتی انتخاب کے دوسرے اور حتمی مرحلے کے دونوں امیدواروں کو آزادانہ طور پر مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ایک صدارتی امیدوار کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور اس کو برابری کے مواقع مہیا نہیں کیے گئے جبکہ دوسرے امیدوار نے اپنی عوامی رابطہ مہم ترک کردی تھی۔

تیونس کے الیکشن کمیشن نے نبیل قروی کو ٹیکس چوری کے اس مقدمے کے باوجود صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف عدالت کے فیصلے تک انتخاب لڑسکتے ہیں۔تاہم وہ اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کی وجہ سے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ملک میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں ووٹروں نے انھیں مسترد کردیا ہے۔بعض نوجوان ووٹروں نے تو انھیں کرپشن پر سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند