تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ہنگری کی ترکی سے آنے والےتارکینِ وطن کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 صفر 1441هـ - 17 اکتوبر 2019م KSA 16:43 - GMT 13:43
ہنگری کی ترکی سے آنے والےتارکینِ وطن کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی
ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن۔ فائل تصویر
بڈاپسٹ ۔ ایجنسیاں

ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن نے دھمکی دی ہے کہ اگر ترکی نے بلقان کے راستے تارکینِ وطن کو یورپ بھیجنے کے دروازے کھولے تو سربیا کے ساتھ ملک کی جنوبی سرحد سے آنے کی صورت میں ان تارکین کے خلاف طاقت استعمال کی جائے گی۔

وزیراعظم وکٹر اوربن نے ہنگری کی سربیا کے ساتھ سرحد پر لوہے کی باڑ لگوادی ہے۔اس کا مقصد بلقان کے روٹ سے آنے والے ایشیائی اور افریقی تارکین ِوطن کا مشرقی اور مغربی یورپ میں واقع ممالک میں داخلہ روکنا ہے۔اسی راستے سے 2015ء میں مشرق اوسط میں بحران کے عروج کے دنوں میں ہزاروں افراد یورپ میں داخل ہوئے تھے۔

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان 2016ء میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت ترکی بحیرہ ایجیئن کے راستے یورپ میں تارکینِ وطن کے داخلے کو روکنے کا پابند ہے۔ اس آبی اور دوسری راستوں سے دس لاکھ تارکین وطن یورپ میں داخل ہوئے تھے ۔ انھوں نے مختلف ممالک کا رُخ کیا تھا اور پھر وہیں جابسے تھے۔

ترکی میں اس وقت 36 لاکھ شامی مہاجرین شہروں یا پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ترکی نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپی یونین نے اس کے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کردوں کے خلاف آپریشن کی منفی عکاسی کی تو وہ اپنی سرحدوں کے دروازے ان شامی مہاجرین کے لیے کھول دے گا اور وہ یورپ کا رُخ کرسکیں گے۔

ہنگری کے وزیراعظم اوربن نے نجی نشریاتی ادارے ہیر ٹی وی سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’آیندہ ہفتے فیصلہ کن ہوں گے کہ ترکی ان افراد کے ساتھ کیا کرتا ہے۔وہ انھیں دو سمتوں میں بھیج سکتا ہے۔انھیں واپس شام بھیج دے گا یا پھرانھیں یورپ کی جانب بھیجنے کے لیے چھوڑ دے گا‘‘۔

انھوں نے مزید کہاکہ ’’اگر ترکی دوسرے راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ تو یہ لوگ بڑی تعداد ہنگری کی جنوبی سرحد کارُخ کریں گے۔‘‘ ان کاکہنا تھا کہ یورپی یونین کو تنقید کے بجائے شام کے شہروں ، قصبوں کی تعمیر نو کے لیے ترکی کو مزید فنڈز مہیا کرنے چاہییں۔

اوربن یورپی یونین کو اس کی بعض پالیسیوں پر تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بلقان کے تارکینِ وطن کے روٹ پر قریباً 90 ہزار افراد موجود ہیں اور بہت جلد ان کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ اگر ترکی مزید سیکڑوں ، ہزاروں افراد کو یورپ کی جانب آنے کی اجازت دے دیتا ہے تو پھر ہمیں ہنگری کی جنوبی سرحد اور سربیا اور ہنگری کے درمیان سرحد کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کی ضرورت ہوگی لیکن میں نہیں چاہتا کہ کسی پر بھی طاقت کا استعمال کیا جانا چاہیے ۔

اوربن کی قوم پرست حکومت کے ترکی ، چین اور وسط ایشیا کی سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں۔اس حکومت نے ’مشرق کی طرف دیکھو‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن آیندہ ماہ کے اوائل میں بڈاپسٹ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند