تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شدید جھلسے کرد بچے کی تصاویر پراقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی
کیا ترک فوک شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کررہی ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 18 ربیع الاول 1441هـ - 16 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 20 صفر 1441هـ - 20 اکتوبر 2019م KSA 08:12 - GMT 05:12
شدید جھلسے کرد بچے کی تصاویر پراقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی
کیا ترک فوک شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کررہی ہے؟
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ بندر الدوشی

شمال مشرقی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور نہتے شہریوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات نے عالمی سطح پر سخت غم وغصہ پیدا کیا ہے۔ شام میں ایک 13 سالہ کرد بچے کے ترک حکام کی طرف سے کیے گئے حملے میں شدید طور پر جھلسے جانے کے واقعے پر اقوام متحدہ بھی حرکت میں آگئی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کا کہنا تھا کہ وہ اس الزام کے بعد معلومات اکٹھا کررہے ہیں کہ ترک فورسز نے رواں ہفتے کے شروع میں شام میں بچوں کے خلاف وائٹ فاسفورس کا استعمال کیا تھا۔

کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے جمعہ کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صورتحال سے آگاہ ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق معلومات اکٹھا کررہی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تنظیم کو ابھی تک ترک فوج کی طرف سے شہریوں کے خلاف وائٹ فاسفورس یا دیگر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم تنظیم ان واقعات کی مکمل مانیٹرنگ کررہی ہے۔

شمالی شام میں ایک بیان میں کرد ہلال احمر نے اطلاع دی ہے کہ 'نامعلوم ہتھیاروں' سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں فوجیوں سمیت چھ افراد کو الحسکہ کے ایک اسپتال میں لایا گیا ہے جن کے جسم بری طرح جھلسے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ شمالی شام میں ترک فوج کی طرف سے کردوں کے خلاف آپریشن کے دوران ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نامعلوم ہتھیاروں سے نصف درجن افراد کے جھلسے جانے کا واقعہ راس العین کے مقام پر پیش آیا۔

ایک برطانوی کیمیائی ہتھیاروں کے ماہر نے ایک فرنٹ لائن اسپتال میں شدید طور پر جلائے گئے کرد بچے کی تصاویر حاصل کیں ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا گیا۔

کرد عہدیداروں نے ترکی پر جمعرات کے روز "غیر روایتی ہتھیاروں" کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا - جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل کرد ملیشیا نے بین الاقوامی معائنہ کاروں سے زخمیوں کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا تھا.

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند