تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایف 16' جیٹ طیارے کو ڈرون میں کیسے تبدیل کیا گیا: دیکھیے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 2 ربیع الثانی 1441هـ - 30 نومبر 2019م KSA 07:43 - GMT 04:43
ایف 16' جیٹ طیارے کو ڈرون میں کیسے تبدیل کیا گیا: دیکھیے!
 
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ جمال نازی

امریکی F-16 فالکن لڑاکا طیارہ جنگی مشنوں میں اپنی اچھی ساکھ اور شاندار تاریخ کے لیے مشہور ہے۔ امریکی میگزین پاپولر میکینکس کے مطابق امریکی فضائیہ آخری سانس تک اس پر بھروسہ کرتی رہتی ہے۔ سال ہا سال سے اس میں ضروری تبدیلیاں لانے کے بعد اب اسے بغیر پائلٹ کے ڈرون میں تبدیل کرنے کی منزل بھی آگئی ہے۔ اب یہ طیارہ بغیر پائلٹ کے ڈرون جنگی جہاز کے طور پربھی کام کرسکتا ہے۔

سروس کی شاندار تاریخ

'ایف 16' کو سنہ 1980ء میں امریکی فضائیہ میں شامل کیا گیا۔گذشتہ چالیس سال سے پوری دُنیا میں مختلف مشنوں اور کارروائیوں میں شامل ہے۔ امریکی فضائیہ کی ایف 16 طیاروں کی خریداری کم سے کم دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ان میں بعض بہت پرانے طیارے ہیں جو اب جنگی مقاصد کے لیےاستعمال نہیں کیے جا سکتے۔ گرائونڈ کیے گئے ایف سولہ امریکا ریاست اریزونا کے ایک یخ بستہ مقام ڈیوس ماؤنٹین ایئر فورس بیس میں سکریپڈ ایئرکرافٹ یارڈ میں محفوظ ہیں۔ یہ ایک سرد اور خشک جگہ ہے جہاں پرانے لڑاکا طیاروں کو اچھی حالت میں رکھا گیا ہے۔ ماہرین ان میں سے بعض کی مرمت اور بحالی کے لیے کام کرتے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ قابل استعمال بنایا جاسکے۔

نیم خودکار

امریکی فضائیہ نے سنہ 2010ء میں ایف 16 کو 'کیو ایف 16' ڈرون میں تبدیل کرنے کے لیے کام شروع کیا۔ انگریزی کے حر'ف Q' سے مراد ایسا جنگی طیارہ جو خود کار طریقے سے جنگی مشن انجام دے اور اس میں پائلٹ کے ساتھ جانے کی ضرورت نہ ہو۔ امریکی ماہنامہ جریدے 'وائرڈ' کے مطابق ڈیوس ماؤنٹین بیس اسٹوریج یارڈ سے رواں سال 32 جنگجی طیاروں کو ان میں تبدیلیوں کےبعد واپس میدان جنگ میں لایا گیا۔ ان میں سے بعض کو ڈرون میں تبدیل کیا گیا۔

یہ پہلی بار ہے کہ کہ امریکا نے ایف سولہ جیٹ میں تبدیلیوں کے ذریعے بوئنگ آٹو پائلٹ سسٹم کے اضافے کےانہیں ڈرون کے طور پر متعارف کرایا۔ 'ایف ۔ 16' کو ڈرون میں تبدیل کرنا نسبتا آسان ہے کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایک نیم خودکار فائٹر ہیں۔ اس میں کمپیوٹر پائلٹ آپریٹنگ پائلٹ کمانڈ کے احکامات کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ایف 16 ایک ایسا پہلا طیارہ ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ اس کو صرف کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

تربیتی اور مرمتی مقاصد

'کیو ایف 16' لڑاکا جیٹ طیاروں کو فضاء سے فضاء میں متحرک اجسام کو نشانہ بنانے، پیچیدہ جنگی مشنوں کی انجام دہی اور جنگی مشقوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے اسکائی برگ پروگرام کو ایف -22 یا ایف -35 جنگی طیاروں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی طرح ونگ میں تبدیل کرنے کے لیے کیو ایف 16 میں بھی ڈھال لیا جا سکتا ہے۔

پرانے ذخیرہ شدہ طیاروں کی تعداد

امریکی فضائیہ کے پاس اسٹوریج یارڈ میں کافی تعداد میں ایف 16 طیارے موجود ہیں۔ ایریزونا کے صحرا میں کم سے کم 100 جنگجو باقاعدگی اور صفائی کے ساتھ کھڑے ہیں جو ڈرون میں تبدیلی کے عمل کے منتظر ہیں۔ جنگی مشقوں کے دوران ان میں سے بعض کو آخری مشن کے طور پر خلیج میکسیکو میں گرا دیا جاتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند