تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لندن بِرج حملہ آورکی شناخت،پاکستانی نژاد برطانوی شہری نکلا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 2 ربیع الثانی 1441هـ - 30 نومبر 2019م KSA 16:42 - GMT 13:42
لندن بِرج حملہ آورکی شناخت،پاکستانی نژاد برطانوی شہری نکلا!
لندن میں دو افراد کو چاقو گھونپ کر قتل کرنے والے عثمان خان کی فائل تصویر۔
لندن ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

برطانوی دارالحکومت کی میٹرو پولیٹن پولیس نے لندن بِرج پر حملہ کرنے والے نوجوان کو شناخت کر لیا ہے۔وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری نکلا ہے۔اس کا نام عثمان خان تھا۔اس کی عمر اٹھائیس سال تھی اور اسٹیفورڈ شائر کا رہنے والا تھا۔

میٹرو پولیٹن پولیس کے اسٹنٹ کمشنر نیل باسو نے اس حملہ آور کی شناخت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اب اس کی اسٹیفورڈ شائر میں واقع قیام گاہ پر مزید شواہد کے حصول کے لیے چھاپا مار کارروائی کی جائے گی۔

عثمان خان نے جمعہ کو لندن بِرج پر دو افراد کو چاقو کے وار کرکے قتل اور تین کو زخمی کردیا تھا۔اس واقعے کے بعد لندن کے شہریوں میں خوف وہراس کی لہر پھیل گئی تھی اورانھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ برطانوی دارالحکومت ایک مرتبہ پھر تشدد کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

اسسٹینٹ کمشنر باسو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’حکام اس شخص کے بارے میں جانتے تھے۔اس کو 2012ء میں دہشت گردی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس کو دسمبر 2018ء میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ عثمان خان کو خصوصی مسلح فورسز کے اہلکاروں نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے بارے میں اب تک جو کچھ معلوم ہوا ہے ، وہ یہ کہ اس نے فش مونگر ہال میں جمعہ کی دوپہر ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔اس کا عنوان ’’اجتماعی تعلیم ‘‘ تھا۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق عثمان خان نے اپنا لڑکپن پاکستان میں گزارا تھا۔ وہاں وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتا تھا اور اس وقت اس کی والدہ علیل تھیں۔ اس کے بعد وہ برطانیہ آگیا تھا اور تعلیم کے حصول کے لیے ایک اسکول میں داخل ہوا تھا لیکن کسی ڈگری کے بغیر ہی اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی ۔پھر اس نے انٹر نیٹ پر انتہا پسندی کی تبلیغ شروع کردی تھی اور بہت سے لوگ اس کے پیرو کار بن گئے تھے۔

واضح رہے کہ عثمان خان سمیت نو افراد کے خلاف 2010ء میں کرسمس کے موقع پر لندن میں مختلف اہداف پر بم حملوں کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔تب ان افراد کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ القاعدہ سے متاثر تھے اور وہ مختلف اہداف تک ڈاک کے ذریعے بم بھیجنا چاہتے تھے اور لندن کے مختلف مقامات میں ممبئی طرز کا خونی کھیل کھیلنا چاہتے تھے۔

گرفتاری کے وقت عثمان خان برطانیہ کے وسطی شہر اسٹوک آن ٹرینٹ میں مقیم تھا۔عدالت نے ان افراد کے خلاف دہشت گردی کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔عدالت نے عثمان خان کو جارح حملہ آور قرار دیتے ہوئے آٹھ سال تک حفاظتی تحویل میں رکھنے کی سزا سنائی تھی تاکہ وہ عوام کو کوئی جانی نقصان نہ پہنچا سکے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند