تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک پارلیمنٹ کا لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی فوری فوجی مدد پرغور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م KSA 07:44 - GMT 04:44
ترک پارلیمنٹ کا لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی فوری فوجی مدد پرغور
استنبول ۔ ایجنسیاں

ترکی کی پارلیمنٹ نے لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قومی وفاق حکومت کی فوری فوجی امداد پر غور شروع کیا ہے۔

اتوار کی شام ترک پارلیمنٹ کے اجلاس میں انقرہ اور طرابلس کے درمیان طے پائے دفاعی معاہدے کے بارے میں ایک بل پیش کیا گیا۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے اور قومی وفاق حکومت کی طرف سے مدد کی درخواست کی صورت میں ترکی طرابلس کی فوری فوجی مدد کرے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں ترکی اور لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ وسیع نوعیت کے اس سمجھوتے میں ترکی کی طرف سے طرابلس کو فوجی سازو سامان، اسلحہ اور دیگر جنگی آلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مصر، یونان اور لیبیا کے منحرف جنرل ریٹائرڈ خلیفہ حفتر نے اس معاہدے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

قومی وفاق حکومت اور ترکی کے درمیان طے پائے معاہدے میں نیول فورس سے متعلق معاونت کی تفصیلات اقوام متحدہ کو ارسال کی گئی ہیں تاکہ اقوام متحدہ سے اس کی منظوری حاصل کی جاسکے جب کہ فوری فوجی امداد کا معاملہ ترک پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ کل اتوار کے روز ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاووش اوگلو نے کہا تھا کہ پارلیمان حکومت کی طرف سے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کو نافذ کرے گی۔

یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ترک پارلیمنٹ اس بل پرکب رائے شماری کرے گئی۔ اس وقت ترک پارلیمنٹ میں طیب ایردوآن کی جماعت 'آق' کی اکثریت ہے اور وہ اس پارلیمان کے ذریعے اپنے مرضی کے فیصلے کراتے ہیں۔

جمعرات کو لیبیا کی نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے اپنی وفادار فوج جو طرابلس کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ طرابلس میں اب فیصلہ کن معرکہ شروع ہو گیا ہے۔ قومی وفاق حکومت اور جنرل حفتر کے درمیان رواں سال اپریل سے لڑائی جاری ہے اور قومی وفاق کو کئی محاذوں پر پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ہفتے کے روز جاویش اوگلو نے کہا تھا کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی طرف سے ترکی سے فوری فوجی مدد کی درخواست نہیں کی گئی۔ اگر قومی وفاق حکومت کی طرف سے ایسی کوئی درخواست کی جاتی ہے تو صدر طیب ایردوآن اس پر فوری فیصلہ کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند