تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مؤثراقدامات کرے:ایف اے ٹی ایف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 19 ربیع الثانی 1441هـ - 17 دسمبر 2019م KSA 23:43 - GMT 20:43
ترکی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مؤثراقدامات کرے:ایف اے ٹی ایف
استنبول ۔ ایجنسیاں

عالمی سطح پر رقوم کی غیر قانونی ترسیل اور غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے کام کرنے والی ٹاسک فورس نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے اپنے نظام میں موجود اسقام کو دور کرے ، ورنہ اس کا نام نامناسب مالیاتی کنٹرول والے ممالک کی ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کر لیا جائے گا۔

پیرس میں قائم مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) نے سوموار کو ایک رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں ترکی کی جانب سے دہشت گردی کی مالیاتی معاونت اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں پائے جانے والے اسقام کو اجاگر کیا ہے۔

اس رپورٹ میں گیارہ پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے اور ترکی سے یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ وہ ان میں سے نو میں بہتری لائے۔اس رپورٹ کے حاصلات کا یہ مطلب ہے کہ ترکی کو ایک سال تک مشاہدے میں رکھا جائے گا۔اگر وہ اس عرصے میں اپنے معاملات میں بہتری نہیں لاتا تو اس کا نام گرے لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

اس محتسب فورس نے ترکی سے یہ تقاضا کیا ہے کہ وہ دہشت گردی ،دہشت گرد تنظیموں اور مالی معاونین کے اثاثوں کو منجمد کرنے کےاقدامات میں بہتری کے لیے بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں دہشت گردی کے لیے رقوم مہیا کرنے والوں کے خلاف مقدمات تو چلائے جاتے ہیں مگر ان میں سے بہت کم کو قصور وار قرار دے کر سزا سنائی جاتی ہے۔اس میں ترک حکام کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2017ء میں چھے ہزار سے زیادہ افراد کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں مقدمات کا اندراج کیا گیا تھا لیکن ان میں سے صرف 115 کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ’’انقرہ کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے لیے رقوم جمع کرنے ، ان کی ترسیل اور استعمال کو روکنے کے لیے کوششوں میں بھی بہتری لانی چاہیے۔‘‘

اس میں یہ بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ ترکی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران اور شمالی کوریا سے متعلق قراردادوں پر عمل درآمد میں سست روی سے اقدامات کرتا ہے جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کررہا ہے۔

ٹاسک فورس نے ترکی سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کے کیسوں میں مالیاتی انٹیلی جنس کے استعمال کو مؤثر اور مضبوط بنائے۔نیز مختلف اقسام کی منی لانڈرنگ کے کیسوں کی تحقیقات اور اس کے مرتکبین کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے اپنی ایک قومی حکمتِ عملی وضع کرے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند