تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا کے بعد طیب ایردوآن کی نظریں صومالیہ کے تیل کے وسائل پر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 9 شعبان 1441هـ - 3 اپریل 2020م
آخری اشاعت: منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م KSA 07:00 - GMT 04:00
لیبیا کے بعد طیب ایردوآن کی نظریں صومالیہ کے تیل کے وسائل پر
تُرکی کے صدر رجب طیب ایردآن
قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید

تُرکی کے صدر رجب طیب ایردآن کی جانب سے لیبیا کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے وہاں پرفوجی مداخلت کے بعد اب افریقی ملک صومالیہ کے تیل پر بھی نظریں جمائی ہوئی ہیں۔

سوموار کے روز ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ صومالیہ کی حکومت نے ترکی کو اپنے علاقائی پانیوں میں تیل کے ذخائر کی تلاش کی دعوت دی ہے۔

ترک میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صدر ایردوآن نے صومالی حکومت کی جانب سے صومالی علاقائی پانیوں میں تیل کی تلاش کی درخواست پرغور شروع کیا ہے تاہم اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے یا ایردوآن بحیرہ روم میں گیس کی تلاش اور قدرتی گیس کے وسائل ہتھیانے کے لیے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج سے سمندری سمجھوتہ کیا۔ ترکی مشرق وسطیٰ میں گیس کے ذخائر کے مواقع کھو دینے کے بعد لیبیا اور صومالیہ جیسے ممالک کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ ان ملکوں کے قدرتی وسائل پرہاتھ صاف کیے جائیں۔

صومالیہ کیوں؟

ترک صدر طیب ایردوآن کے صومالیہ میں تیل اور گیس کی تلاش سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صومالی انٹلی جنس کے سابق نائب سربراہ عبداللہ عبد اللہ نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ ترکی کی کمپنیاں پہلے ہی کئی بندرگاہوں ، سڑکوں کی تعمیر ، آب پاشی ، زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صومالی حکومت اور ترکی کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ ترکی ان تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صومالیہ کے وسائل تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔دونوں حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کے کئی معاہدے موجود ہیں۔ ان معاہدوں نے ترکی کے لیے صومالیہ کے وسائل ہتھیانے کی راہ آسان کردی ہے۔

صومالیہ کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کی صومالیہ میں موجودگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب سنہ 2011ء کو ملک بدترین خشک سالی کا شکار ہوا۔ طیب ایردوآن اس وقت ترکی کے وزیراعظم تھے۔ ان کی سربراہی میں ایک ترک وفد نے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کا دورہ کیا۔ اس دورے کے پیچھے صومالیہ میں ترکوں کی ساکھ کو بہتر بنانا تھا۔ ترک وفد کے دورے سے قبل صومالیہ 1200 طلباء ترکی کی جامعات میں سائنس ، انجینئرنگ ، قانون اور دیگر علوم میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ان کے اسکالرشپ پر ترکی سالانہ 70 ملین ڈالر خرچ کررہا تھا۔ اس کے علاوہ ترکی نے صومالیہ میں سرکاری اورنجی شعبے میں شراکت داری اور ریلیف سرگرمیوں کے لیے مزید 41 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

صومالیہ میں ترکی کا دخل معاشی شعبے سے شروع ہوکر صحت کے شعبے سے ہوتا ہوا اب فوج اور دفاع تک پہنچ چکا ہے۔ صومالیہ میں ترک زبان سکھانے کے لیے مختلف اسکول بھی قائم کیے گئے ہیں۔ صومالیہ میں مقامی سطح پر کئی اسکولوں میں ترکی کے تعاون سے مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند