تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بانی امازون کے سیل فون کی ’ہیک کہانی‘ کا نیا ڈراپ سین،کارنامہ گرل فرینڈ نے انجام دیا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م KSA 21:15 - GMT 18:15
بانی امازون کے سیل فون کی ’ہیک کہانی‘ کا نیا ڈراپ سین،کارنامہ گرل فرینڈ نے انجام دیا؟
امازون کے بانی اور واشنگٹن پوسٹ کے مالک جیف بیزوس ۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امازون کے بانی اور واشنگٹن پوسٹ کے مالک جیف بیزوس کا سیل فون ہیک ہونے کی مبیّنہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد نت روز نئی کہانیاں جنم لے رہی ہیں۔انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر اپنا فون ہیک کرنے کا الزام عاید کیا تھا لیکن اب امریکی میڈیا میں ایک نئی کہانی سامنے آئی ہے۔اس کے مطابق مسٹر بیزوس کا سیل فون ہیک ہونے میں کسی اور شخصیت کا نہیں بلکہ ان کی گرل فرینڈ کا کردار ہے۔

بیزوس کا سیل فون ہیک ہونے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ واشنگٹن میں قائم ایک کنسلٹینسی فرم ایف ٹی آئی نے تیار کی تھی۔اس میں تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ بیزوس کے آئی فون ایکس کو ایک ضرررساں سوفٹ وئیر (وائرس) کے ذریعے ’درمیانے سے اعلیٰ اعتماد‘ کی حد تک ہیک کیا گیا تھا۔اس وائرس نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے یکم مئی 2018ء کو بیزوس کو بھیجی گئی ایک ویڈیو سے جنم لیا تھا۔

ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کی رپورٹ گذشتہ سال نومبر میں شائع ہوئی تھی لیکن گذشتہ بدھ کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچیوں ایجنز کالامارڈ اور ڈیوڈ کائی نے اس کے مندرجات کا حوالہ دیا ہے اور انھوں نے اس رپورٹ کے حاصلات پر ایک طرح سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا ہے۔

سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ایک مکمل اور جامع فورینزک جائزے پر مبنی نہیں ہے۔اقوام متحدہ کے ایلچیوں کی شائع کردہ رپورٹ میں یہ نشان دہی کی گئی ہے کہ بیزوس کے فون کا جب معائنہ کیا گیا تھا تو اس میں کسی ضرررساں سوفٹ وئیر یا وائرس کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ نیزمذکورہ کنسلٹینسی فرم نے مشتبہ ویڈیو فائل کے جائزے کے بعد اپنے ابتدائی نتائج میں کسی خفیہ کوڈ کی موجودگی کا بھی کوئی اشارہ نہیں دیا تھا۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے بیزوس کے دعووں کی جمعرات کو ایک ٹائم لائن شائع کی تھی اور مذکورہ رپورٹ کے جائزے کے بعد کہا تھا کہ اس کی تحقیقات نامکمل ہیں۔کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) نے قبل ازیں ایک رپورٹ شائع کی تھی لیکن اب اس کا بھی کہنا ہے کہ بیزوس کے سیل فون کی ہیکنگ کی تحقیقاتی رپورٹ نامکمل ہے۔

حتیٰ کہ بیزوس کے ملکیتی واشنگٹن پوسٹ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ سکیورٹی ماہرین نے فورینزک رپورٹ کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں،اسی رپورٹ کی بنیاد پر امریکی حکام نے اپنے حاصلات وضع کیے ہیں۔

اس معاملے کے بارے میں وال اسٹریٹ جرنل نے بھی ایک مضمون شائع کیا ہے اور اس میں یہ انکشاف کیا ہے کہ مین ہیٹن میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کی رپورٹ میں ایک اور پہلو کی بھی نشان دہی کی ہے اور لکھا ہے کہ سعودی ولی عہد کے فون سے بیزوس کو ٹیکسٹ پیغامات میں ذاتی نوعیت کی معلومات ہوتی تھیں اور یہ کوئی زیادہ معروف نہیں تھیں۔

ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کی رپورٹ میں ایک عورت کی تصویر بھی شامل ہے۔اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ جیف بیزوس سے خفیہ مراسم رکھنے والے عورت لورین سانچیز کی ہم شکل تھی۔اس رپورٹ کے مطابق یہ تصویر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھیجی تھی۔اس کے فوری بعد بیزوس کا فون ہیک ہوگیا تھا اور ان کی ذاتی نوعیت کی معلومات حاصل کر لی گئی تھیں۔اس تصویر سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد اس عورت کے جیف بیزوس سے تعلقات کے بارے میں آگاہ تھے۔

بیزوس کے اس معاشقے کا نیشنل انکوائرر نے بھی انکشاف کیا ہے۔اس کے بعد ان کے سکیورٹی چیف گاوین ڈی بیکر نے ایک مضمون لکھا تھا اور اس میں اس اخبار پر غیر قانونی ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

لیکن وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مین ہیٹن میں وفاقی پراسیکیوٹرز کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن کے مطابق بیزوس کی گرل فرینڈ نے ٹیکسٹ پیغامات اپنے بھائی کو دیے تھے۔ان میں ایک ثبوت یہ ہے کہ ’’10 مئی 2018ء کو لورین سانچیز کے فون سے ان کے بھائی مائیکل سانچیز کو ایک پیغام بھیجا گیا تھا۔اس میں امازون کے بانی کا محبت آمیز مواد بھی شامل تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل نے ان تمام پیغامات اور مسٹر سانچیز کو انکوائرر کی جانب سے ادا کردہ دو لاکھ ڈالر کی رقم کے معاملے کا جائزہ لیا ہے۔انکوائرر نے اکتوبر 2018ء میں مائیکل سانچیز کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کے تحت مسٹر سانچیز نے انکوائرر کو تصاویر فراہم کی تھیں۔

ٹورنٹو یونیورسٹی میں سٹیزن لیب کے سینیرمحقق بِل مارکزاک کا کہنا ہے کہ ’’وٹس ایپ کی ای این سی فائل کے مواد کو کوڈ والی بنایا جاسکتا ہے لیکن اس کا انحصار فون کی نوعیت پر ہے۔‘‘

ٹیلکام فرم کوال کام کے شعبہ پراڈکٹ سکیورٹی انجنئیرنگ کے سربراہ ایلکس گانٹمین نے ایک ٹویٹ میں کنسلٹینی کی رپورٹ کے بارے میں کہا ہے کہ’’یہ بہت ہی بری ہے اور اس میں جن حاصلات کا دعویٰ کیا گیا ہے،میرا ان پراعتماد اگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے تو مجروح ضرور ہوگیا ہے۔‘‘

واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں اس رپورٹ کو مضحکہ خیز قراردے کر مسترد کردیا تھا اور اس کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔سفارت خانے نے اپنے سرکاری ٹویٹر صفحے پر لکھا تھا کہ ’’مسٹر جیف بیزوس کے فون کی ہیکنگ میں سعودی عرب کا ہاتھ کارفرما ہونے سے متعلق میڈیا کی حالیہ رپورٹس بالکل مضحکہ خیز ہیں۔ہم ان دعووں کے بارے میں مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ تمام حقائق منظرعام پر آسکیں۔‘‘

سعودی حکومت کے ایک ذریعے کا اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کی رپورٹ کی اشاعت کے دوماہ کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندوں کے بیان کی اشاعت کے پیچھے بظاہر سیاسی محرک ہی کارفرما نظر آتا ہے۔اس کا مقصد الزامات کو نئی توانائی بخشنا ہے لیکن ان کے بیان کا الٹا ردعمل ہوا ہے کیونکہ اس میں اصل رپورٹ میں کسی ٹھوس ثبوت کی عدم موجودگی ہی کی نشان دہی کی گئی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند