تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران : قُم میں کرونا وائرس سے50 ہلاکتیں،وزیر صحت کو تنقید کا سامنا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 17:31 - GMT 14:31
ایران : قُم میں کرونا وائرس سے50 ہلاکتیں،وزیر صحت کو تنقید کا سامنا
العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایران کے شہر قُم میں مہلک وائرس کرونا سے مرنے والوں کی تعداد پچاس ہوگئی ہے۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایلنا کے مطابق اس شہر سے منتخب رکن پارلیمان احمد امیرآبادی فرحانی نے قُم میں ہلاکتوں کی یہ نئی تعداد بتائی ہے۔

ایرانی حکومت نے سوموار کی صبح ملک بھر میں بارہ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور اس سے زیادہ ہلاکتوں کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ایران کی وزارت صحت نے بھی بعد از دوپہر پچاس ہلاکتوں کی تعداد کو مسترد کردیا ہے۔

مگر امیرآبادی فرحانی نے کہا ہے کہ ’’گذشتہ رات تک کرونا وائرس سے کم سے کم پچاس افراد مارے جا چکے تھے۔اس کے ذمے دار وزیر صحت ہیں۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ قُم میں گذشتہ بدھ سے کرونا وائرس سے روزانہ دس افراد موت کے مُنھ میں جارہے ہیں۔

ان کے اس بیان کے ردعمل میں ایران کے نائب وزیر صحت ایرج حریرچی نے ہلاکتوں کی اس تعداد کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر امیر آبادی فرحانی کے اعداد وشمار درست ہوئے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر قُم میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میڈیا کی بیان کردہ تعداد کا ایک چوتھائی بھی ہوئی تو میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاؤں گا۔ یہ اعداد وشمار غلط ہیں اور ہمیں اپنے اعداد وشمار پر یقین ہے۔‘‘

تاہم ایران کی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے آج کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں بار بار ردوبدل کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے ملک بھر میں متاثرین کی تعداد اکسٹھ ہوگئی ہے۔

امیر آبادی فرحانی نے وائرس پر قابو پانے کے لیے حکومت کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا’’ قُم میں بہت بُری حالت ہے لیکن حکومت کرونا وائرس پرقابو پانے میں ناکام رہی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے حکومت کو کوئی تشویش لاحق نہیں، یہ درست ہے کہ ہمیں خاموش رہنا چاہیے لیکن ہمیں ایسے طرزعمل کا بھی مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قُم میں گذشتہ تین ہفتوں سے کرونا وائرس پایا جارہا ہے لیکن نرسیں اس کے لیے تیار نہیں تھیں۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا نے ایک اور رکن پارلیمان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ فرحانی کی خود بھی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور انھیں پارلیمان کے اجلاس سے اٹھ کر جانا پڑا تھا۔

ایرانی پارلیمان نے آج اپنا بند کمرے کا اجلاس منعقد کیا تھا اور اس میں وزیر صحت سعید نمکی بھی شریک ہوئے تھے۔ایسنا کے مطابق اجلاس سے پہلے تمام ارکان کے جسم کے درجہ حرارت کا معائنہ کیا گیا تھا اور امیرآبادی فرحانی سمیت تین ارکان کو اجلاس میں شریک نہ ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا مگراس کے باوجود ان تینوں ارکان نے اجلاس میں شرکت کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ بدھ کو کرونا وائرس کے مریضوں کی پہلی مرتبہ اطلاع سامنے آئی تھی اور دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع اہل تشیع کے لیے متبرک شہر قُم میں حکام نے دو ضعیف العمر افراد کی اس وائرس سے موت کی تصدیق کی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ چین سے آنے والے بعض مسافروں سے اس شہر میں کرونا وائرس پھیلا ہے۔مشرقِ اوسط میں واقع کسی ملک میں کرونا وائرس سے یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند