تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دنیا کرونا وائرس کی ممکنہ وبا کے لیے تیار رہے: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 20:44 - GMT 17:44
دنیا کرونا وائرس کی ممکنہ وبا کے لیے تیار رہے: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ تيدروس أدهانوم غيبريسوس جنیوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔
جنیوا ۔ ایجنسیاں

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تيدروس أدهانوم غيبريسوس نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ نئے مہلک وائرس کرونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تیار رہے اور اگر یہ ممکنہ طور پر وبائی صورت اختیار کرتا ہے تو وہ اس سے نمٹنے کے لیے بھی مستعد رہے۔

تيدروس أدهانوم غيبريسوس نے جنیوا میں سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کرونا وائرس سے ڈھائی ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کے باوجود اس کو وبائی مرض خیال نہیں کرتی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نےکہا ہے کہ دنیا کے ممالک کو اس کے وبائی شکل اختیار کرنے کی صورت میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ایران ، اٹلی اور جنوبی کوریا میں حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کے کیسوں میں اچانک اضافہ گہری تشویش کا سبب ہے۔

چین میں دسمبر کے آخر میں پھیلنے والے مہلک وائرس کرونا سے دنیا بھر میں گذشتہ قریباً دو ماہ میں سے 2600سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں اور قریباً 80 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔یادرہے کہ 2002-2003ء میں پھیلنے والے سارس وائرس سے 774 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے متعدد ممالک نے چین کے لیے اپنی تمام پروازیں معطل کردی ہیں۔ وہ اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پیشگی حفاظتی تدابیر اختیار کررہے ہیں۔بعض ممالک نے چین سے آنے والی پروازوں کو اپنے ہوائی اڈوں پر اترنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔چین سے باہر ایران میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔اس کے بعد ترکی اور پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی زمینی سرحد بند کردی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند