تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دوحہ معاہدے کے باوجود طالبان اور القاعدہ کے درمیان قریبی روابط ہیں : اقوام متحدہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 11 ذیعقدہ 1441هـ - 2 جولائی 2020م
آخری اشاعت: منگل 10 شوال 1441هـ - 2 جون 2020م KSA 15:53 - GMT 12:53
دوحہ معاہدے کے باوجود طالبان اور القاعدہ کے درمیان قریبی روابط ہیں : اقوام متحدہ
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

قطر کی سرپرستی میں طے پائے جانے والے معاہدے کے باوجود افغان طالبان تحریک ابھی تک القاعدہ تنظیم کے ساتھ گہرے اور قریبی روابط رکھتی ہے۔ اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پابندیوں کے آزاد مبصرین نے باور کرایا ہے کہ طالبان تحریک بالخصوص حقانی گروپ کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ تعلقات اب بھی قریبی نوعیت کے ہیں۔ اگرچہ اس تعلق پر روک لگانے کے واسطے اپریل میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان تحریک اور واشنگٹن کے درمیان ایک معاہدہ طے پا چکا ہے۔

پیر کی شام عالمی سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ "امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران طالبان تحریک باقاعدگی کے ساتھ القاعدہ سے مشاورت کرتی رہی اور اس نے یہ یقین دہانی کرائی کہ القاعدہ کے ساتھ تاریخی روابط کو برقرار رکھا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ القاعدہ تنظیم اور حقانی نیٹ ورک ممکنہ طور پر مشرقی افغانستان میں لڑائی کے لیے ایک نئی فورش تشکیل دے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ دونوں تنظیموں نے حالیہ عرصے میں کئی اجلاس منعقد کیے جن میں مںصوبہ بندی اور تربیت کے امور زیر بحث آئے۔ اسی طرح فریقین نے افغانستان میں القاعدہ کے ارکان کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی پر بھی بات چیت کی۔

افغان قومی سلامتی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے گذشتہ ہفتے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ قطر نے طالبان تحریک کے کئی رہ نماؤں کی فنڈنگ کی ہے۔

واضح رہے کہ دوحہ کے طالبان تحریک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان تحریک نے 29 فروری کو قطر میں امریکا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ امریکا اور اس کے حلیفوں کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے حوالے سے القاعدہ تنظیم کو افغانستان کی اراضی سے فائدہ اٹھانے نہیں دیا جائے۔

اس معاہدے سے امید کی جا رہی تھی کہ یہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے مکمل اںخلا کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔ امریکا آئندہ ماہ جولائی کے وسط تک افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد 8600 تک کم کرنے کا پابند ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند