تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کی طرح پاکستان کو بھی کرپشن سے پاک کریں گے:عمران خان
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ’العربیہ‘ کو خصوصی انٹرویو کا تفصیلی احوال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 13 محرم 1440هـ - 24 ستمبر 2018م KSA 10:25 - GMT 07:25
سعودی عرب کی طرح پاکستان کو بھی کرپشن سے پاک کریں گے:عمران خان
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ’العربیہ‘ کو خصوصی انٹرویو کا تفصیلی احوال
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان
العربیہ ڈاٹ نیٹ

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ وزارتِ عُظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر اعلیٰ سعودی حکام سے تفصیلی بات چیت کی۔

اس موقع پر ’العربیہ‘ نیوزچینل کے جنرل منیجر اور سینئر صحافی ترکی الدخیل نے عمران خان کا خصوصی انٹرویو کیا۔ ان کے انٹرویو کے اہم اقتباسات خبر کی شکل میں شائع کیے جا چکے ہیں۔ اتوار کی شب ان کا تفصیلی انٹرویو ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

’ترکی الدخیل‘ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنے یہ ملک پرانے ہیں۔ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کافی مضبوط اور دونوں قوموں کے ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور غم گساری کے جذبات بھی قابل تحسین ہیں۔ پاکستانی قوم نے سعودی قوم کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ دوسری طرف سعودی حکومتوں اور عوام نے بھی پاکستان کی ہمیشہ دل کھول کر مدد کی۔ جس وقت بھی پاکستان کو کوئی مشکل پیش آئی تو سعودی عرب کو ہم نے اپنے شانہ بہ شانہ پایا۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار سنھبالنے کے بعد پاکستان کا ہر وزیراعظم سب سے پہلے سعودی عرب ہی کا دورہ کرتا ہے۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ پہلا سبب دونوں قوموں اور حکومتوں کے درمیان مضبوط اور قابل اعتماد تعلقات اور دوسرا مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں کی زیارت ہے۔ اللہ کے خصوصی فضل وکرم سے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

بدعنوانی کا خاتمہ

’العربیہ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نےکہا کہ ہم پاکستان کو مالی اور انتظامی کرپشن کی لعنت سے اسی طرح پاک کرنا چاہتے ہیں جس طرح سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم چلائی۔ اختیارات اور اثر ونفوذ رکھنے والے افراد کے جرائم سے لڑنا مشکل ہے۔ ان کے پاس وافر مقدارمیں دولت ہوتی ہے اور وہ دولت کے بل پر مہنگے وکیلوں کی خدمات لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنی رقوم بیرون ملک بنکوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ بیرون ملک پاکستان کا پیسہ واپس لینا آسان نہیں۔ حکومت نے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے جو بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی جائیدادوں کی نشاندہی کرکے ان کی واپسی کے اقدامات کرے گا۔ انسداد کرپشن کے لیے ہم ایک نیا ایکشن پلان بنا رہے ہیں جو مغربی ممالک پر بھی دباؤ ڈالے گا تاکہ ان کے ہاں چھپائی گئی پاکستانی دولت کو وطن واپس لایا جا سکے۔ غریب ملکوں کے مٹھی بھر اُمرا پیسہ امیر ملکوں میں لے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے ہاں غربت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

سعودی امداد

عمران خان نے ترکی الدخیل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ‘ہماری طرف سے پیغام یہ ہے کہ ہم سعودی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ سعودی عرب نے ہمیشہ ہماری ہرضرورت اور مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔

اسلام آباد اور الریاض کے درمیان سیاسی تعاون کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ سعودی قیادت کی حمایت کی مگر موجودہ حالات میں ہمیں عالم اسلام کے درمیان جاری اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیبیا، صومالیہ، شام اور افغانستان کے ساتھ پاکستان بھی اندرونی خلفشار کا شکار رہا ہے۔ عالم اسلام میں پائے جانے والے اختلافات نے ہماری اجتماعی قوت کو نقصان پہنچایا۔ اختلافات کی آگ بجھانے کے لیے پاکستان کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں عالم اسلام میں مصالحت کے لیے مہم شروع کرنی چاہیے۔ فرقہ بندی اور اختلافات کو ہوا دینا عالم اسلام کے مفاد میں نہیں۔ میں ذاتی طورپر کہتا ہوں کہ اختلافات کی آگ پاکستان بجھا سکتا ہے۔ ہم اسی لیے سعودی عرب آئے اور مملکت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔

اقتصادی ترقی

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ماضی کی حکومتیں عوام کے معاشی مسائل کے حل میں ناکام رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کی بہتری، روزگار اور دیگر اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے محدود مدت، درمیانی مدت اور طویل مدت کے اقتصادی پلان تیار کیے ہیں۔ ملک کو اقتصادی بحران سے اسی طرح نکالا جا سکتا ہے۔ وسائل کی تقسیم کے لیے ہم نے نیا بجٹ تیار کیا۔ اس طرح پاکستان تجارتی اور برآمدات کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے نکل سکے گا۔ اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ہم ملک میں گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئی اصلاحات لا رہےہیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ادارے مضبوط ہوں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہمارے اقدامات تھوڑا عرصہ گذرنے کے بعد اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے ہم نے سادگی اور کفایت شعاری کا اسلوب اختیار کیا۔ حکومتی اخراجات کم اور مشکل وقت میں اپنے وسائل سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

جہاں تک درمیانی مدت کی اسکیموں کا تعلق ہے تو تو پاکستان کے پاس اس کے بھی بے شمار مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کو کارآمد اور با صلاحیت نوجوان افراد کار کی کوئی کمی نہیں۔ یہ نوجوان بھی ہمارا سرمایہ ہیں۔ پاکستان میں گوررننس کا نظام بہتر ہوتے ہی ہم پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری قبول کریں گے۔

ٹیکسوں کا نفاذ

اقتصادی اصلاحات اور ترقی کے اہداف کےحصول کے ذرائع کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ٹیکسوں کا نفاذ‘ اہم ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں مال دار لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں تاکہ کم مال دار یا غریب طبقے کا معیار زندگی بہتر کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک بالخصوص اسکنڈنیوین ممالک نے ٹیکسوں کے نفاذ کی پالیسی اختیار کی۔ یورپ میں ترقی کا راز بھی ٹیکسوں کے نفاذ میں مضمرہے۔ ان ملکوں میں امراء سے ٹیکس لیے جاتے اور ملکوں کی معیشت سنواری جاتی ہے۔ پاکستان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صرف سات لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جب کہ دو کروڑ افراد کو ٹیکس دینا چاہیے۔ ٹیکس ادا کرنے والی اس قلیل تعداد کے ٹیکسوں پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند