تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عفرین کو شام سے علاحدہ کرنے کے لیے ترکی کی جانب سے 3 میٹر بلند دیوار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 شعبان 1440هـ - 25 اپریل 2019م KSA 12:43 - GMT 09:43
عفرین کو شام سے علاحدہ کرنے کے لیے ترکی کی جانب سے 3 میٹر بلند دیوار
العربیہ ڈاٹ نیٹ - جوان سوز

ترکی نے شام کے شمال مغرب میں سرحد کے نزدیک واقع شہر عفرین کو عملی طور پر اپنی اراضی میں ضم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

ترکی کی فوج کئی روز سے اعلانیہ طور پر عفرین شہر کے بعض دیہات کے گرد ایک دیوار تعمیر کر رہی ہے بالخصوص ان دیہات کے جو ترکی کی فوج اور اس کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کی بشار کی فوج اور اس کی ہمنوا فورسز کے ساتھ ٹکراؤ کے علاقے میں واقع ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق مذکورہ دیوار کی اونچائی تین میٹر ہے۔ اس کا مقصد عفرین کو شامی اراضی سے کاٹ دینا اور اس دیورار کو سیکورٹی بیلٹ کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

انقرہ اس دیوار کے کچھ حصے پہلے ہی ان دیہات میں بنا چکا ہے جو عفرین شہر کے مرکز سے 10 کلو میٹر سے زیادہ کی دوری پر نہیں ہیں۔

ترکی اور شام کے بعض ذرائع ابلاغ نے اس دیوار کو "ترکی کے عسکری اڈے" کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تاہم المرصد گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں اس مفروضے کی تردید کر دی۔

سال 2018 کے آغاز سے انقرہ نے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف عسکری آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں عفرین کی مقامی آبادی جبری بے دخلی کے بعد کوچ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ان میں بعض لوگوں نے ماسکو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عفرین میں ترکی کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے اس موقف کو روسی چیک پوائنٹس کے نزدیک ترکی کی دیوار کی تعمیر سے جوڑا ہے جب کہ ماسکو کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

قطری فنڈنگ ؟!

ادھر نیوز پلیٹ فارم "عفرين پوسٹ" نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ انقرہ نے تقریبا 2 ارب شامی لیرہ کی لاگت سے 20 فوجی اڈے بنانے کے لیے ترکی کی تعمیراتی کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کیے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ عسکری اڈے پہرے کے ٹاوروں کے طور پر استعمال میں آئیں گے۔ یہ جنوب میں قلعہ سمعان سے لے کر شامل میں اعزاز شہر تک پھیلے ہوئے ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق ترکی کے اس منصوبے کی فنڈنگ قطر کرے گا اور انقرہ عفرین کو اپنے نقشے میں ضم کرنے کے واسطے شام کے ساتھ اپنی سرحدوں کو نئے سرے سے کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترکی چند برس قبل شامی اراضی کے ساتھ اپنی پوری جنوبی سرحد بالخصوص کرد اکثریت کے حامل علاقوں کی حدود پر ایک دیوار تعمیر کر چکا ہے۔ یہ دیوار دنیا میں تیسری طویل ترین دیوار ہے جس کی مجموعی لمبائی 911 کلو میٹر کے قریب ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق عفرین میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (تنظیم) کے خلاف ترکی کے عسکری آپریشن کے نتیجے میں عفرین اور اس کے نواحی دیہی علاقوں کی تقریبا آدھی آبادی جبری ہجرت پر مجبور ہو گئی۔

انقرہ اس کرد تنظیم کو ایک دہشت گرد جماعت اور کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا دھڑا قرار دیتا ہے۔

عفرین کی آبادی کے ہزاروں افراد اس وقت شام کے شہر حلب کے نزدیک علاقے الشہباء کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ترکی کی حمایت "شامی جیش حُر" میں شامل مسلح جماعتوں نے عفرین کے علاقے میں کرد شہریوں کی املاک پر قبضہ کر کے ان میں لُوٹ مار اور بربادی مچائی۔ بشار حکومت کی مخالف مسلح جماعتوں نے اپنے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو کردوں کے گھروں میں سکونت اختیار کروا دی، شہری املاک کو تباہ کیا اور ان کے مالکان کو زر تلافی ادا کیے بغیر املاک کو لُوٹ لیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند