تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خلیجی اور عرب سربراہوں کے ہنگامی اجلاس کا مکہ میں آغاز
مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا اہم سنگ میل ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 25 رمضان 1440هـ - 30 مئی 2019م KSA 10:49 - GMT 07:49
خلیجی اور عرب سربراہوں کے ہنگامی اجلاس کا مکہ میں آغاز
مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا اہم سنگ میل ہے
خلیجی، عرب اور اسلامی دنیا کے رہنماؤں کے لئے خیر مقدمی بینرز
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی میزبانی میں عرب اور خلیجی ملکوں کے دو ہنگامی سربراہی اجلاس مکہ المکرمہ میں جمعرات کے روز منعقد ہو رہے ہیں جبکہ کل بروز جمعہ اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہو گا۔ اجلاس کا موضوع ’’#مکہ_سمٹ مستقبل کی جانب اکٹھ‘‘ ہے۔

ان اجلاسوں میں حالیہ چند دنوں میں اماراتی سمندری حدود میں چار تیل بردار ٹینکروں اور حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں ایرانی دھمکیاں اور خلیجی سیکیورٹی کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ نیز ان اجلاسوں میں مشرق وسطیٰ میں امن عمل سمیت عرب دنیا کو درپیش بحرانوں اور دیگر معاملات پر بھی بحث کی جائے گی۔

درایں اثناء اسلامی تعاون تنظیم 'او آئی سی' کے سربراہ اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کی سطح کے اجلاس میں سعودی عرب کی طرف سے دوسرے ملکوں‌ میں ایرانی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا گیا۔

سعودی وزیر خارجہ ابراہیم العساف

او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیرخارجہ ابراہیم العساف نے کہا کہ داخلی معاملات میں مداخلت کی وجہ سے پورا عالم اسلام انتہائی مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ انہو‌ں نے کہا کہ اس وقت پوری مسلم امہ غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ شام، لیبیا، صومالیہ اور دوسرے ملکوں میں بیرونی مداخلت جاری ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کشمکش ایک چیلنج ہے اور سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ ابراہیم العساف نے کہا کہ یمن میں غیر ملکی مداخلت سے انسانی بحران پیدا ہوا۔ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یمن میں امن کے قیام کے لیے کوشاں‌ ہیں۔ سوڈان سے متعلق سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک سوڈانی قوم کے ساتھ ہے اور سوڈان کی عبوری عسکری کونسل کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

انہوں‌ نے کہا کہ سعودی عرب شام کے مسئلے کا حل پہلے جنیوا معاہدے کی روشنی میں دیکھتا ہے۔ شام میں‌ موجود تمام فرقہ وارانہ ملیشیائوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں‌ نے روہنگیا پناہ گزینوں‌ کی پرامن واپسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لیبیا کو درپیش موجودہ بحران سے نکلنے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا بھی تذکرہ کیا۔

چند ہفتے قبل متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ کے قریب تیل بردار بحری آئل ٹینکروں پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے  کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات کے سنگین نتائج برآمد ہوں‌ گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ دائود اوگلو نے کہا کہ ان کا ملک شام میں امن وامان کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداودں پرعمل درآمد پر زور دیتا رہے گا۔ اجلاس سے خطاب میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صالح العثیمین نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پوری مسلم امہ کا مشترکہ اور بنیادی مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں‌ نے فلسطینی قوم کو درپیش مشکلات اورمصائب کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند