تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قطرمیں طالبان کے نمائندے کا دورہ ایران:ذرائع
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شوال 1440هـ - 19 جون 2019م KSA 07:08 - GMT 04:08
قطرمیں طالبان کے نمائندے کا دورہ ایران:ذرائع
دبئی ۔ مسعود الزاھد

قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہےکہ تنظیم کے مندوب نے چین کے دورے سےواپسی پرایران کا بھی دورہ کیا جہاں تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کی گئی۔

افغان نیوز ایجنسی'افق' نے طالبان کے ایک ذریعے کےحولے سے بتایا ہے کہ اگرامریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ناکام ہوگئیں تو تحریک طالبان علاقائی قوتوں کی مدد حاصل کرے گی۔

خیال رہےکہ قطر میں طالبان کےسیاسی دفتر کے انچارج اور تنظیم کے سیاسی معاون ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں طالبان کے ایک وفد نے گذشتہ ہفتے چین کا دورہ کیا تھا۔ طالبان کے وفد نے چینی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات اور بات چیت کی۔

اگرچہ طالبان کے ذرائع نے وفد کے دورہ ایران کا دعویٰ‌کیا ہے تاہم ایران نے سرکاری طور پراس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ قطر میں طالبان کے ذرائع کےمطابق تہران دورے کے دوران ایرانی حکام اور طالبان رہنمائوں کےدرمیان افغانستان میں قیام امن پر بات چیت کی گئی۔

ادھر افغانستان میں متعین ایرانی سفیر محمد رضا بہرامی نے 16 جون کو ایک بیان میں طالبان کو اقتدار میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغانستان کے 'طلوع نیوز' چینل کود یئےگئے انٹرویو میں انہوں‌نے کہا کہ ہم حکومت میں طالبات کی شمولیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران یہ نہیں کہتا کہ پوری حکومت طالبان کے حوالےکردی جائےمگر ہماراموقف یہ ہے کہ افغانستان میں قائم حکومتی ڈھانچے میں طالبان کو حصہ ملنا چاہیے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف ایران پر طالبان کی عسکری سرگرمیوں میں معاونت کا الزام عاید کیاجاتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند