تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مرشد عام کے قبرستانوں میں صرف اخوانیوں کو کیوں دفن کیا جاتا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شوال 1440هـ - 19 جون 2019م KSA 07:24 - GMT 04:24
مرشد عام کے قبرستانوں میں صرف اخوانیوں کو کیوں دفن کیا جاتا ہے؟
قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید

مصرکے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو کل منگل کے روز مشرقی قاہرہ کے نصر شہر میں اخوان المسلمون کے لیڈروں کے لیے مختص قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ وہ سوموار کو عدالت میں پیشی کے موقع پر اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئےتھے۔

نصر شہرمیں موجود مرشد عام قبرستان اخوان المسلمون کے مُردوں کے لیے مختص ہیں جہاں جماعت کے فوت ہونے والے سرکردہ رہ نمائوں کو دفن کیا جاتا ہے۔ اخوان المسلمون ان قبرستانوں کو'مقابر الخالدین' کا نام دیتی ہے جب کہ سرکاری سطح پرانہیں۔'مقابر الوفاء والامل' کہا جاتا ہے۔

اسلامی سیاسی تحریکوں کےامور کے ماہر عمرو فاروق کا کہنا ہے کہ یہ قبرستان سنہ 1985ء میں جماعت کےتیسرے مرشد عام عمر التلمسانی کے دورمیں قائم ہوئے اور ان کی تجویز مصطفیٰ‌مشہورکی طرف سے دی گئی تھی۔ پہلے پہلےاخوان قبرستان کے لیے 120 مربع میٹر کی جگہ لی گئی جس میں تین مردوں اور تین خواتین کی قبریں بنائی گئیں۔

زیادہ تر ان قبرستانوں میں ان اخوانیوں کی قبریں بنائی جاتی ہیں جن کی تدفین سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں کی جاتی۔ اخوان کے پانچویں مرشد عام مصطفیٰ مشہور کی قبربھی اسی میں‌ہے۔

عمرو فاروق کاکہنا ہے کہ جب سنہ 1986ء کو عمر التلمسانی فوت ہوئے تو ان کی قبر بھی اسی جگہ بنائی گئی۔20 جنوری 1996ء‌کو چوتھے مرشد عام محمد حامد ابو النصر کو بھی اسی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا،

ستمبر 2017ء کو سابق مرشد عام ڈاکٹر محمد مہدی عاکف کو اسی قبرستان میں میں سپرد خاک کیا گیا۔ جبکہ جماعت کے دوسرے مرشد عام حسن الھضیبی کو 11 نومبر 1973ء کو القلیوبیہ کے علاقے عرب الصوالحہ قبرستان میں جب کہ ان کےبیٹے اور چھٹے مرشد عام مامون الھضیبی کو جنوری2004ء کو والدکی پہلومیں دفن کیا گیا۔

اخوان المسلمون کے بانی حسن البنا کو 12 فروری 1949ء کو امام شافعی قبرستان میں دفن کیا گیا جب کہ سید قطب کو سزائے موت دینے کے بعد مصری حکومت نے ان کی قبر نامعلوم مقام پربنائی۔ انہیں سنہ 1966ء کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند