تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران سعودی عرب میں تیل کی تنصیب کو نشانہ بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا : رپورٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م KSA 10:01 - GMT 07:01
ایران سعودی عرب میں تیل کی تنصیب کو نشانہ بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا : رپورٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

اسرائیلی ویب سائٹDebka نے انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک منصوبے کا پتہ چلایا جس کے تحت آئندہ دنوں میں سعودی عرب میں تیل کے ایک ہدف پر بڑا حملہ کیا جانا تھا۔ اس کے نتیجے میں سعودی عرب میں سیکورٹی انتہائی ہائی الرٹ کر دی گئی تاہم ایرانی اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پیر کے روز سینئر ارکان کانگرس کے معاونین کو وہائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس میں شرکت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ ان افراد کو دی جانے والی بریفنگ میں کہا گیا کہ اگر ایران کی جانب سے یہ حملہ کیا گیا تو امریکا مداخلت کر کے عسکری وسائل کے ذریعے جواب دے گا۔ ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ نے مذکورہ حملے کی نوعیت کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔ ماضی میں یہ کارروائیاں یمنی حوثی ملیشیا جیسے ایجنٹوں اور ایرانی پاسداران انقلاب کی کشتیوں کے ذریعے کی گئیں۔ ویب سائٹ نے اس عسکری جواب اور ممکنہ اہداف کے حوالے سے بھی تفصیلات پر روشنی نہیں ڈالی جس کا ٹرمپ حکومت ارادہ رکھتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل واشنگٹن میں کئی رپورٹوں میں یہ کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے قریب ہے۔

پینٹاگان میں ذرائع نے بتایا ہے کہ خلیج میں سیکورٹی کی صورت حال اور جہاز رانی کی آزادی کی ذمے دار امریکی مرکزی کمان کی جانب سے پیش کردہ درخواستوں پر غور جاری ہے۔ ان درخواستوں میں کم از کم 6000 امریکی فوجیوں پر مشتمل عسکری کمک کے علاوہ جنگی بحری جہازوں، آب دوزوں اور طیارہ شکن پیٹریاٹ میزائلوں کی بیٹریز بھی خلیج بھیجے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ خطے میں بھیجنے کے ساتھ عمل درامد کا آغاز کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند