تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی خاتون نے تیر اندازی کے ذریعے "باٹل کیپ چیلنج" انجام دے کر حیران کر ڈالا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 6 ذیعقدہ 1440هـ - 9 جولائی 2019م KSA 13:17 - GMT 10:17
سعودی خاتون نے تیر اندازی کے ذریعے "باٹل کیپ چیلنج" انجام دے کر حیران کر ڈالا
العربیہ ڈاٹ نیٹ - ناديہ الفواز

سوشل میڈیا پر ان دنوں Bottle Cap Challenge یعنی ڈھکن کھول چیلنج کی دھوم ہے۔ اس حوالے سے ایک سعودی دوشیزہ مشاعل العتیبی نے باٹل کیپ چیلنج کو کامیابی سے پورا کر کے خوب داد وصول کی ہے تاہم ان کا انداز سب سے انوکھا رہا۔ عام طور سے باٹل کیپ چیلنج کا مقصد فلائنگ کِک کے ذریعے بوتل کو گرائے بغیر بوتل کے ڈھکن کو اڑانا ہوتا ہے۔ البتہ مشاعل نے تیر اندازی کے ذریعے اس چیلنج کو پورا کیا۔

باٹل کیپ چیلنج کا آغاز سب سے پہلے مکسڈ مارشل آرٹس کے ایتھلیٹس نے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد ہالی وڈ اداکار جیسن اسٹیتھم نے اس چیلنج کو اپنایا اور اب یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے۔

مشاعل العتیبی Kindergarten کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ وہ تیر اندازی کے کھیل میں سعودی عرب کی پہلی خاتون چیمپین ہیں۔ مشاعل کو بچپن سے ہی اس کھیل سے عشق تھا جس کے میدان میں انہوں نے کئی چیمپین شپس جیتیں اور متعدد کامیابیوں کو گلے لگایا۔ مشاعل نے انتھک محنت جاری رکھی اور اب وہ 70 میٹر کے فاصلے تک تیر پھینکنے پر عبور حاصل کر چکی ہیں۔

مشاعل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "میں نے کتابوں اور وڈیو کلپوں کے ذریعے اس کھیل کے اسرار و رموز کی جان کاری حاصل کی۔ مملکت میں اس کھیل تک خواتین کو رسائی کچھ عرصہ پہلے حاصل ہوئی ہے۔ اس کے بعد میں نے کھیل کے تمام زاویوں سے مہارتوں کو جانا"۔

مشاعل کا کہنا ہے کہ "مملکت میں تیر اندازی کی چیمپین شپ جیتنے کے بعد اب میں بیرونی مقابلوں میں شرکت کرنے اور بین الاقوامی ایونٹس میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ میں سعودی معاشرے میں خواتین کے لیے تیر اندازی کو فروغ دینے پر کام کرنا چاہتی ہوں۔ مملکت میں چیمپین شپ کے انعقاد کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مقامی سطح پر تیر اندازی میں مہارت اور صلاحیت کی حامل خواتین موجود ہیں"۔

مشاعل نے Saudi Archery Federation کے ساتھ تربیت کے علاوہ گھر پر اپنی دوست کے تعاون سے بھی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ وہ مملکت کی سطح پر خواتین کی تیر اندازی کی پہلی (18 میٹر کے فاصلے کی) چیمپین شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ مقابلے میں 25 سے زیادہ خواتین شریک تھیں۔

مشاعل نے واضح کیا کہ تیر اندازی کی چیمپین شپ دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک آؤٹ ڈور جو اوپن ہال میں ہوتی ہے اور یہاں 70 میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔ دوسری اِن ڈور جہاں تیر اندازی کے لیے فاصلہ 18 یا 10 میٹر ہوتا ہے۔

مشاعل کے مطابق اس نوعیت کا کھیل صبر، ارتکاز، یکسوئی اور خود اعتمادی سکھاتا ہے۔ تیراندازی ایک مثبت توانائی کا ذریعہ ہے جو کھیلوں کی روض اور دوسروں کی مدد کے جذبے کو تقویت پہنچاتا ہے۔

مشاعل کا کہنا ہے کہ اس کھیل کے لیے جسمانی اور ذہنی فٹنس کے علاوہ ہدف پر تیر پھینکنے کی مسلسل مشق ناگزیر ہے۔

مشاعل کے مطابق Saudi Archery Federation خواتین کے اس کھیل میں داخلے کے واسطے تمام تر معاونت اور سپورٹ پیش کر رہی ہے۔ اس طرح ویژن 2030 پروگرام کو تقویت ملے گی۔ مشاعل نے کہا کہ اس کھیل میں زیادہ نقل و حرکت کی ضرورت نہیں اور سعودی خواتین یا نوجوان لڑکیاں اپنے پردے کے ساتھ اس میں بھرپور حصہ لے سکتی ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند