تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدام حسین اور اس کے بیٹوں کی قبروں کا راز صرف دو افراد جانتے ہیں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م KSA 18:43 - GMT 15:43
صدام حسین اور اس کے بیٹوں کی قبروں کا راز صرف دو افراد جانتے ہیں؟
عراق کے مصلوب صدر صدام حسین
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ

شمالی عراق کی صلاح الدین گورنری کے وسیع علاقے پر داعش نے 2014 میں اپنا تسلط قائم کیا تو تنظیم کے زیر تسلط آنے والے علاقوں میں مصلوب صدر صدام حسین کا آبائی گائوں العوجہ بھی شامل تھا۔

روس کی 'سپٹنک' نیوز ایجنسی  کے مطابق صدام حسین کے خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 'داعش' کے جنگجوئوں‌ نے اس مسجد کے گرد بھی گھیرا تنگ کردیا تھا جس کے صحن میں صدام حسین، ان کے دو بیٹے عدی اور قصی اور ایک پوتا دفن تھے۔

قبر میں دھماکا

عراق کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ خطرہ تھا کہ 'داعش' صدام حسین، ان کے دو بیٹوں عدی اور قصی کی قبروں کو دھماکے سے اڑا دے گی۔ چنانچہ ان کے خاندان کے کچھ افراد نے چپکے سے میتیں ان کی قبروں سے نکال کر کسی اور مقام پر منتقل کر دیں۔ بعد ازاں داعش نے صدام حسین کی قبر کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ داعش نے مخصوص وقت کے اندر اندر قبرستان کو بند کر دیا۔ جب یہ افواہیں عام ہو گئیں کہ داعشی جنگجو صدام حسین کی قبر اور اس سے متصل مسجد کو دھماکے سے اڑانا چاہتے ہیں تو انہوں نے مسجد سے متصل قبرستان بھی بند کر دیا ہے تو سابق صدر کے اقارب کو صدام اور ان کے بیٹوں کی باقیات کو متبادل اور محفوظ مقامات پر دفنانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ العوجہ گائوں کی مسجد الکبیر کے صحن میں دفن صدام حسین اور اس کے بیٹوں کے جسد خاکی وہاں سے نکال لیے گئے۔ اُنہیں تین افراد نے وہاں سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا اور وہی جانتے ہیں کہ صدام حسین اور اس کے بیٹوں کی دوبارہ قبریں کہاں‌ بنائی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ صدام اوراس کے صاحبزادوں کی میتیں منتقل کرنے والے تین میں سے ایک شخص فوت ہو چکا ہے۔ رہے دوسرے دو افراد تو وہ اس لیے یہ راز فاش نہیں‌ کرتے کہ ایسا کرنے پر ان کی جان بھی جا سکتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ صدام حسین کی میت سمیت کل 6 میتوں کو منتقل کیا گیا۔ ان میں صدام حسین، ان کے دو بیٹوں عدی، قصی، پوتے مصطفیٰ، صدام حسین کے نائب طہ یاسمین رمضان اور انقلاب عدالت کے سابق جج عواد البندر کی لاشیں شامل تھیں۔ انہیں ایک ایسی مسجد میں دفن کیا گیا جو ایک ہزار مربع میٹر کی جگہ پر بنائی گئی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدام حسین اور دیگر افراد کی میتیں منتقل کرنے کے بارے میں ان کے خاندان کے کسی عالم کو نہیں بتایا گیا۔ اب تک ان دو افراد کے سوا کسی کو ان قبروں کا علم نہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند