تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے پیچھے کس ایرانی عہدیدار کا ہاتھ ہے؟
اسرائیلی ٹی وی چینل نے حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے پس پردہ ایران کردار بے نقاب کردیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م KSA 22:49 - GMT 19:49
حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے پیچھے کس ایرانی عہدیدار کا ہاتھ ہے؟
اسرائیلی ٹی وی چینل نے حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے پس پردہ ایران کردار بے نقاب کردیا
اسرائیلی ٹی وی چینل 'آئی 24' پر مجید انور کی دکھائی جانے والی تصویر
دبئی ۔ مسعود الزاھد

عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے اسرائیلی ٹی وی چینل 'آئی 24' نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے پیچھے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی اس اہم شخصیت کی شناخت ظاہر کی ہے جو حزب اللہ کے لیے پیچیدہ میزائل پروگرام میں معاونت کر رہا ہے۔

ٹی وی چینل نے وائس آف امریکا کی فارسی سروس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کا سینیر افسر 'مجید نوید' کام کر رہا ہے۔ چون سالہ مجید نوید لبنان میں حزب اللہ کے بیروت اور جنوبی لبنان میں دو میزائل پلیٹ فارمز کا ذمہ دار ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے پیچیدہ میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والے کئی دوسرے ایرانی انجینیر بھی موجود ہیں جو زمین سے زمین  تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔

عبرانی چینل'آئی 24' کےمطابق حزب اللہ کے لیے میزائلوں کی تیاری میں معاونت کرنے والا ایرانی افسر مجید نوید پاسداران انقلاب کی فضائیہ سے منسلک ہے۔ وہ یمن میں موجود اپنے ساتھیوں سے بھی مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔

خیال رہے کہ حزب اللہ کے میزائل پروگرام کے حوالے سے 30 مئی کو 'العربیہ' پر بھی ایک رپورٹ نشر کی گئی تھی جس میں حزب اللہ کے میزائل صلاحیت پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کے زیر استعمال میزائل ٹکنالوجی کا سب سے بڑا ماخذ ایرانی میزائل پروگرام ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام بھی اس وقت خطے میں‌ کشیدگی کا محرک ہے۔ ایرانی ساختہ میزائل نہ صرف مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک بلکہ یورپی مُلکوں تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران پرالزام ہے کہ وہ میزائلوں کو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کے قابل بنا رہا ہے۔

ایران نہ صرف خود بھاری اور وسیع پیمانے تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر رہا ہے بلکہ تہران اپنا اسلحہ یمن کے حوثی باغیوں اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بھی فراہم کر رہا ہے۔

حزب اللہ کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ ڈیڑھ لاکھ تک بتایا جاتا ہے۔ ان میں 20 فی صد طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں زیادہ تر ایرانی ساختہ ہیں۔ 'الفجر' میزائل کی تعداد 500 یونٹ تک بتائی جاتی ہے۔'رعد' میزائل 100 کلو گرام تک دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

'زلزال' ایرانی ساختہ ایک بیلسٹک میزائل ہے جو 150 سے 200 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حزب اللہ کے پاس 'فاتح 110' میزائل زمین سے زمین پر مار کرنے کے ساتھ تین ٹن دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 'برکان 2' میزائل بھی ایران کی طرف سے حزب اللہ کو دیا گیا ہے۔ یہ زمین سے زمین تک مار کرنے، اپنی تیز رفتاری اور 600 سے 800 کلومیٹر رینج تک مار کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہے۔

اسی طرح یمن کے حوثی باغیوں کے پاس 'قاہر 2' میزائل سوویت یونین کا تیار کردہ ہے جو زمین سے زمین تک 300 کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند