تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حزب اللہ کو لبنان سے بے دخل کرنا ہی مسئلے کا حل ہے: امریکی ویب سائیٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 13:58 - GMT 10:58
حزب اللہ کو لبنان سے بے دخل کرنا ہی مسئلے کا حل ہے: امریکی ویب سائیٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ خطے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور عالمی جرائم پیشہ گروپوں کے ساتھ تعلقات کی بناء پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا اہم موضوع رہتی ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی صحافی اور سینیر تجزیہ نگار 'جوزف پوڈر' نے جریدہ 'فرنٹ پیج' کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا کہ آیا امریکی انتظامیہ حزب اللہ پر کاری ضرب لگانے کے احکامات دے سکتی ہے؟

مسٹر پوڈر کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ایران سے اسلحہ اور رقوم حاصل کر کے لبنان کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ بعض اوقات ایران کی سمندر پار کارروائیوں میں سرگرم القدس فیلق القدس لبنان میں مداخلت کرتی ہے اور گاہے حزب اللہ لبنان کے سیاسی نظام میں داخل ہو کر لبنان فوج کی جگہ پر آبیٹھتی ہے۔

جنگجوئوں کی رخصت اور تنخواہوں میں کمی

حالیہ مہینوں کے دوران جب امریکا نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عاید کیں تو حزب اللہ کو بھی ایران سے رقوم ملنا کم ہو گئیں۔ بیرون ملک سے ملنے والے فنڈز کی قلت کے باعث حزب اللہ کو اپنے جنگجوئوں کی تنخواہوں میں کمی کرنا پڑی۔ بہت سے کارکنوں کو رخصت پر بھیج دیا گیا۔ حزب اللہ کے ترجمان سمجھے جانے والے ٹی وی چینل 'المنار' کو بھی اپنے بجٹ میں کمی کرنا پڑی اور بہت سے ملازمین کو نکال دیا گیا۔

تجزیہ نگار حنین غدار کی رپورٹ کے مطابق 6 مارچ 2019ء کو حزب اللہ کے جنگجوئوں‌ اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے یہ شکایت عام ہوگئی تھی کہ انہیں تنظیم کی طرف سے ملنے والا معاوضہ بند ہو گیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی جو اس سے قبل جنگ کی حالت میں بھی نہیں دیکھی گئی۔ حزب اللہ کے بعض جنگجوئوں‌ نے نصف تنخواہ کی کٹوتی کی شکایت کی اور بتایا کہ انہیں 1200 ڈالر ماہانہ کے بجائے 600 ڈالر ادا کیے گئے جب کہ بعض کو ماہانہ 200 ڈالر کی رقم دی جا رہی ہے۔

بلیک لسٹ

'بلومبرگ' نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی کو امریکی وزارت خزانہ نے حزب اللہ کے اہم عہدیداروں پر نئی پابندیاں عاید کیں۔ ان میں دو ارکان لبنانی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ پابندیوں کی زد میں آنے والے حزب اللہ کے لیڈروں میں امین شیری، محمد رعد دونوں پارلیمنٹ کے رکن ہیں جب کہ ایک تیسرے رکن وفیق صفاء کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا۔

ایران کی مکروہ سرگرمیاں

امریکی وزارت خزانہ کے پابندیوں کے شعبے کے سینیر عہدیدار سیگل منڈلکر نے ایک بیان میں‌ کہا کہ حزب اللہ اپنے عناصر کو پارلیمنٹ اپنے مالی اور دفاعی مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ اپنے سیاسی ونگ کو ایران کی مکروہ سرگرمیوں میں معاونت کے لیے بھی استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔

حزب اللہ اپنی چالاکیوں کے نتیجے میں امریکی مالیاتی نظام تک رسائل حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور اس نے پابندیوں سے بچنے کے لیے منی لانڈرنگ کو بھی رقوم کے حصول کا زریعہ بنایا۔

گذشتہ برس امریکا نے ایران پر پابندیوں کی دوسری قسط عاید کی تو ان پابندیوں نے ایران کے بنیادی ذرائع آمدن کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے بعد ایران مفلسی کا شکار ہوچکا ہے اور وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی گھٹیا سرگرمیوں‌ کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں‌ ہوسکتا۔

ایران نظام کا سقوط

امریکا کی کوشش ہے کہ وہ ایرانی عوام کو ولایت فقیہ کے نظام حکومت کے خلاف اکسا کر ملک میں کوئی نیا نظام لائے یا عوامی دبائو کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی راہ ہموار کرے۔ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے اور اسے جوہری ہتھیاروں‌ کے حصول سے روکنے کا ایک طریقہ عوامی احتجاج اور دبائو بھی ہے۔

امریکا نہ صرف حزب اللہ کے براہ راست معاونت کار ایران پر پابندیاں عاید کر رہا ہے بلکہ تہران پر عاید کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں حزب اللہ کو بھی شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حزب اللہ کا سالانہ بجٹ 70 کروڑ ڈالر ہے اور اس رقم کا 80 فی صد ایران کی طرف سے فراہم کیا جاتا رہا ہے۔

اثاثوں کا منجمد ہونا اور منی لانڈرنگ

حالیہ کچھ عرصے کے دوران لبنان کے عیسائی باشندوں کے امریکا میں موجود بنک کھاتے بھی سیل کیے گئے۔ ان پر حزب اللہ کو رقوم کی ترسیل کا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ شمالی افرقیا میں موجود لبنانی نژاد کاروباری شخصیات بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آئیں۔ سنہ 2011ء کو امریکا نے کینیڈا میں موجود ایک بنک بندکرا دیا۔ اس بنک پر حزب اللہ کی رقوم کی منی لانڈرنگ کا الزام تھا۔

'جہاد بالمال'

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ اپنے حامیوں کے اجتماعات سے اکثر خطاب میں انہیں جہاد بالمال کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ چندہ اسرائیل کے خلاف جنگ کی تیاری کے لیے اکٹھا کرتے ہیں۔ رواں ماہ بھی انہوں‌ نے اپنی متعدد تقاریر میں 'جہاد بالمال' کی اصطلاح بار بار استعمال کی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند